اسلام آباد:وفاقی حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ چونکہ عمران خان کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے سنائی گئی، اس لیے انہیں اسلام آباد کی جیل منتقل کیا جائے گا۔
اسلام آباد پولیس کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ نئی اسلام آباد جیل آئندہ دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد منتقلی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ ان کے مطابق جیل میں تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور سیکیورٹی انتظامات جدید تقاضوں کے مطابق ہوں گے۔
وزیر داخلہ نے تقریب سے خطاب میں دہشت گردی کے چیلنجز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں انسداد دہشت گردی کی مخصوص فورس کا فقدان تھا، جسے مدنظر رکھتے ہوئے تین ماہ قبل ایک خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیا گیا۔ یہ کورس بظاہر چھ ماہ کا تھا مگر اسے دن رات محنت کر کے تین ماہ میں مکمل کیا گیا۔
انہوں نے تربیت دینے والے افسران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں موجود ٹریننگ اسکولز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ نہ صرف مقامی بلکہ دیگر علاقوں کے اہلکار بھی یہاں تربیت حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ جوان دہشت گردی کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ عمران خان کی منتقلی کا فیصلہ قانونی بنیاد پر کیا گیا ہے، کیونکہ سزا اسلام آباد کی عدالت سے سنائی گئی تھی، اس لیے انہیں متعلقہ دائرہ اختیار میں قائم جیل منتقل کرنا مناسب ہوگا۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق اگر کسی قیدی کو سزا کسی مخصوص دائرہ اختیار کی عدالت سے سنائی گئی ہو تو اسے متعلقہ صوبے یا وفاق کے زیر انتظام جیل میں منتقل کرنا قانونی طور پر ممکن ہے، بشرطیکہ سیکیورٹی اور انتظامی تقاضے پورے کیے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی منتقلی کا فیصلہ انتظامی نوعیت کا ہے، تاہم اس پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق قیدی کی منتقلی کے فیصلے میں بنیادی انسانی حقوق، طبی سہولیات اور سیکیورٹی کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
بعض ماہرین کے مطابق اگر نئی جیل مکمل طور پر فعال اور سہولیات سے آراستہ ہے تو منتقلی قانونی پیچیدگی پیدا نہیں کرے گی، تاہم کسی بھی فریق کی جانب سے عدالت سے رجوع کرنے کا حق برقرار رہتا ہے۔
عمران خان کی اڈیالہ جیل سے اسلام آباد جیل منتقلی کا فیصلہ بظاہر انتظامی نوعیت کا ہے، لیکن اس کے سیاسی اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ جب بھی ملک کی کسی بڑی سیاسی شخصیت کے حراستی مقام میں تبدیلی ہوتی ہے تو اس کے پس منظر اور ممکنہ نتائج پر بحث شدت اختیار کر لیتی ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا مؤقف ہے کہ سزا اسلام آباد کی عدالت سے سنائی گئی، اس لیے منتقلی منطقی اور قانونی قدم ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جائے گا۔
اہم سوال یہ ہے کہ کیا نئی جیل مکمل طور پر فعال اور محفوظ ہے اور کیا اس منتقلی سے قانونی کارروائیوں پر کوئی اثر پڑے گا؟ اگر انتظامی بنیاد مضبوط ہے تو یہ فیصلہ معمول کی کارروائی سمجھا جائے گا، لیکن سیاسی ماحول میں ہر قدم کو علامتی معنی بھی دے دیے جاتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ فیصلہ محض انتظامی تھا یا اس کے سیاسی مضمرات بھی سامنے آئیں گے۔