اسلام آباد (سائنس اینڈ ہیلتھ ڈیسک – غلام مرتضیٰ) کینسر کے علاج میں گزشتہ دہائیوں میں بے پناہ پیش رفت ہوئی ہے، مگر ایک خوفناک مسئلہ اب بھی برقرار ہے: مکمل تھراپی اور برسوں بعد بھی مرض کا دوبارہ لوٹ آنا (Relapse)۔ بہت سے مریض سرجری، کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کے بعد صحت یاب ہو جاتے ہیں، مگر کئی سال بعد یہ مرض پہلے سے زیادہ خطرناک شکل میں واپس آجاتا ہے۔
اب سائنسدانوں نے اس راز کو کھول دیا ہے کہ کینسر کی واپسی کی ایک بڑی وجہ “کینسر اسٹیم سیلز” ہیں۔ یہ خلیات روایتی علاج (کیموتھراپی، ریڈی ایشن) سے بچ جاتے ہیں اور جسم میں “سوتے ہوئے” یا “گمنام” حالت میں برسوں تک موجود رہتے ہیں۔ جب یہ جاگتے ہیں تو نئے ٹیومر بنا دیتے ہیں۔
امریکہ کی ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی (VCU) کے پروفیسر اومیش دیسائی اور ڈاکٹر بھاؤمیک پٹیل کی برسوں کی تحقیق کے نتیجے میں ایک نیا مولیکیول “G2.2” دریافت ہوا ہے۔ یہ مولیکیول ان “سوئے ہوئے” کینسر اسٹیم سیلز کو دھوکہ دے کر فعال (جاگنے) پر مجبور کرتا ہے اور پھر انہیں خودکشی کا سگنل بھیج کر تباہ کر دیتا ہے۔
لیبارٹری ٹیسٹوں میں G2.2 نے کولوریکٹل، پھیپھڑوں، دماغ، گردے اور لبلبے کے کینسر میں سوئے ہوئے اسٹیم سیلز کو بیدار کرکے تقریباً ختم کر دیا۔ ابتدائی جانچ میں یہ مولیکیول محفوظ بھی نظر آیا اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے کے آثار بھی دکھائے۔
یہ دریافت ابھی پری کلینیکل مرحلے میں ہے یعنی انسانوں پر استعمال کے قریب نہیں پہنچی، مگر ماہرین اسے کینسر کے دوبارہ ہونے سے روکنے کی ایک امید افزا جہت قرار دے رہے ہیں۔
ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی کے کینسر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ڈیوس کا کہنا ہے کہ G2.2 ایک بریک تھرو ہے۔ یہ پہلا مولیکیول ہے جو کینسر اسٹیم سیلز کی “نیند” کو چالاکی سے ختم کر کے انہیں مرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر یہ کلینیکل ٹرائلز میں کامیاب ہوا تو یہ کینسر کے علاج میں انقلاب لا سکتا ہے اور relapse کی شرح کو بہت کم کر سکتا ہے۔
کینسر کا دوبارہ لوٹ آنا (relapse) مریضوں اور ڈاکٹروں کے لیے سب سے بڑا خوف رہا ہے۔ G2.2 کی یہ دریافت اس خوف کی جڑ تک پہنچنے کی پہلی کامیاب کوشش ہے۔ کینسر اسٹیم سیلز کو “سوتے ہوئے” حالت میں چھوڑ دینا ہی relapse کا سب سے بڑا سبب ہے اور اب انہیں “جاگا” کر مارنے کا طریقہ مل گیا ہے۔
یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے مگر اگر کلینیکل ٹرائلز کامیاب ہوئے تو یہ کینسر کے علاج کا ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں کینسر کے علاج کی سہولیات محدود ہیں، ایسی تحقیق امید کی کرن ہے۔ ضرورت ہے کہ پاکستان بھی کینسر اسٹیم سیلز اور relapse پر تحقیق کو فروغ دے تاکہ ہم بھی اس میدان میں پیچھے نہ رہیں۔
یہ دریافت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ سائنس کبھی ہار نہیں مانتی – کینسر جتنا بھی خطرناک ہو، اس کا جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔
آپ کو یہ دریافت کیسی لگی؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کینسر ایک دن مکمل طور پر قابل علاج ہو جائے گا؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!