اپنا گھر ہر انسان کا بنیادی خواب ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عام شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ریٹائرمنٹ کی رقم، زیورات اور بعض اوقات قرض لے کر ایک پلاٹ یا مکان خریدتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے نجی ہاؤسنگ شعبے میں مناسب نگرانی نہ ہونے کے باعث ہزاروں خاندان غیر قانونی اسکیموں، جعلی فائلوں، نامکمل ترقیاتی کاموں اور ملکیتی تنازعات کا شکار ہوتے رہے ہیں۔ ایسے میں پنجاب حکومت کی جانب سے نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے قواعد میں جامع ترامیم بلاشبہ ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن ان اصلاحات کی اصل کامیابی کا فیصلہ نوٹیفکیشن نہیں بلکہ عملی نفاذ کرے گا۔
نئے ضوابط کے تحت ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری کا نظام ڈیجیٹل بنانے، انسانی مداخلت کم کرنے اور غیر قانونی منصوبوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خریداروں کے حقوق کے تحفظ، زیر زمین یوٹیلیٹی سروسز اور کم لاگت رہائش کے فروغ کو بھی اصلاحات کا حصہ بنایا گیا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری کا روایتی نظام پیچیدہ، سست اور بڑی حد تک غیر شفاف رہا ہے۔ فائلیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک گردش کرتی رہتی ہیں اور درخواست گزار کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی درخواست کس مرحلے پر ہے۔ مکمل ڈیجیٹلائزیشن سے درخواستوں، اعتراضات، منظوریوں اور ذمہ دار افسران کا ریکارڈ محفوظ ہو سکے گا۔ اس طرح نہ صرف بدعنوانی کے امکانات کم ہوں گے بلکہ غیر ضروری تاخیر کی ذمہ داری بھی متعین کی جا سکے گی۔
تاہم ڈیجیٹل نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوگا جب اسے عام شہری کے لیے آسان بنایا جائے۔ اگر کاغذی فائلوں کی جگہ پیچیدہ آن لائن طریقہ کار نے لے لی، سرور بار بار بند رہے یا شہریوں کو ہر مرحلے پر ایجنٹوں کی ضرورت پڑے تو اصلاحات کا بنیادی مقصد فوت ہو جائے گا۔ حکومت کو درخواستوں کی منظوری کے لیے واضح مدت مقرر کرنے کے ساتھ شکایات کے ازالے کا ایک مؤثر اور آزاد نظام بھی قائم کرنا چاہیے۔
نئے قواعد میں منصوبوں کی ملکیت، اسپانسرشپ اور جوائنٹ وینچر کے لیے بھی واضح شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔ پانچ سے زیادہ مالکان کی صورت میں رجسٹرڈ کمپنی یا کوآپریٹو سوسائٹی کے ذریعے درخواست دینا ہوگی، جبکہ اسپانسرز کو جیو ریفرنسڈ ڈیجیٹل لے آؤٹ پلان جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ یہ اقدامات جعلی ملکیتی دعوؤں، مبہم شراکت داری اور ایک ہی زمین کی متعدد فروخت جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد دے سکتے ہیں۔
شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے پارکس، کھیل کے میدانوں، قبرستانوں، عوامی عمارتوں، سڑکوں، سروس ایریاز اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے زمین مختص کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایک خوش آئند فیصلہ ہے، کیونکہ ہمارے ہاں بہت سی ہاؤسنگ اسکیمیں صرف پلاٹوں کی خریدوفروخت کا منصوبہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ ان میں نہ مناسب پارک ہوتے ہیں، نہ سکول، نہ قبرستان اور نہ ہی نکاسیٔ آب کا قابل اعتماد نظام۔
درحقیقت ایک اچھی ہاؤسنگ اسکیم صرف خوب صورت داخلی دروازے، کشادہ سڑکوں اور رنگین اشتہارات کا نام نہیں۔ ایک معیاری آبادی وہ ہوتی ہے جہاں پینے کا صاف پانی، سیوریج، بجلی، انٹرنیٹ، کچرے کی تلفی، کھیل کے میدان، تعلیمی سہولتیں اور محفوظ آمدورفت دستیاب ہو۔ اسی لیے پانی، سیوریج، بجلی، گیس، ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ کی لائنوں کو سڑکوں کی تعمیر سے پہلے زیر زمین بچھانے کی شرط مستقبل کی شہری منصوبہ بندی کے لیے نہایت اہم ہے۔
لیکن اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ زیر زمین یوٹیلیٹیز، واٹر ٹریٹمنٹ، سیوریج اور ماحولیاتی تقاضوں سے منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اضافی لاگت کو عام خریدار پر منتقل ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر نگرانی کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اصلاحات کے نام پر مکان اور پلاٹ متوسط طبقے کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں۔ کم لاگت رہائش کا اعلان اسی وقت بامعنی ہوگا جب زمین، تعمیرات اور اقساط واقعی عام آدمی کی مالی استطاعت کے مطابق ہوں۔
خریداروں کے تحفظ کے لیے متعارف کرائی گئی شرائط ان اصلاحات کا سب سے اہم پہلو ہیں۔ کسی الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے سے پہلے پندرہ روز کا نوٹس، اقساط کی عدم ادائیگی پر دو مرتبہ ادائیگی کا موقع اور مکمل ادائیگی کے بعد ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ملکیتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی شرط شہریوں کو یک طرفہ فیصلوں سے تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
اسی طرح ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد سوسائٹیوں کے انتظام کے لیے سات رکنی کمیٹیوں کا قیام بھی ایک مثبت قدم ہے، جن میں چار نمائندے مقامی آبادی سے لیے جائیں گے۔ یہ کمیٹیاں سڑکوں، پارکس، پانی، سیوریج، صفائی، سکیورٹی اور دیگر مشترکہ سہولتوں کی نگرانی کریں گی اور سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی رپورٹس جمع کرانے کی پابند ہوں گی۔ اس سے رہائشیوں کو انتظامی معاملات میں آواز مل سکتی ہے، بشرطیکہ کمیٹیوں کے انتخاب کا عمل شفاف ہو اور وہ ڈویلپرز کے زیر اثر نہ ہوں۔
غیر قانونی یا نامکمل اسکیموں پر پانچ ہزار سے بیس ہزار روپے یومیہ جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم اربوں روپے کے منصوبوں کے مقابلے میں یہ رقم بہت زیادہ مؤثر دکھائی نہیں دیتی۔ بڑے ڈویلپر معمولی جرمانے کو کاروباری لاگت سمجھ کر ادا کر سکتے ہیں۔ جرمانے کو منصوبے کے حجم، فروخت شدہ پلاٹوں اور حاصل ہونے والی آمدن سے منسلک کرنا زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں فروخت پر پابندی، بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی ضروری ہونی چاہیے۔
پنجاب حکومت کی یہ اصلاحات درست سمت میں ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ مگر پاکستان میں مسئلہ قوانین کی کمی سے زیادہ ان کے غیر مساوی نفاذ کا ہے۔ چھوٹے ڈویلپر پر قانون کا پورا وزن ڈال دینا اور بااثر گروپوں کو رعایت دینا اصلاحات کو ناکام بنا دے گا۔ اسی طرح شہریوں کو غیر قانونی اسکیموں کی تازہ فہرست، منظور شدہ لے آؤٹ پلان، ترقیاتی مدت اور زمین کی ملکیت کا ریکارڈ ایک عوامی ویب پورٹل پر دستیاب ہونا چاہیے۔
گھر صرف اینٹ، سیمنٹ اور زمین کا ٹکڑا نہیں ہوتا؛ یہ ایک خاندان کی عمر بھر کی محنت، امید اور تحفظ کا نام ہے۔ حکومت اگر واقعی اس خواب کی حفاظت کرنا چاہتی ہے تو اسے قانون سازی کے بعد مسلسل نگرانی، بلاامتیاز احتساب اور شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ نئے قواعد نے ایک مضبوط بنیاد ضرور فراہم کر دی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بنیاد پر شفاف اور محفوظ آبادیاں تعمیر ہوتی ہیں یا فائلوں میں ایک اور خوب صورت منصوبہ دفن ہو جاتا ہے۔
