امریکا اور ایران میں کشیدگی کم ہونے لگی، حملے روکنے پر اتفاق؛ دوحا میں اہم مذاکرات متوقع

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

مشرقِ وسطیٰ میں کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی محاذ پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق اہم مذاکرات کل قطر کے دارالحکومت دوحا میں متوقع ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں فریقوں نے موجودہ صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کے لیے فی الحال فوجی حملے معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ تکنیکی سطح پر رابطے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا تاکہ آبنائے ہرمز میں عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

سوئٹزرلینڈ مذاکرات کے بعد نئی پیش رفت

ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (MOU) پر اتفاق ہوا تھا، تاہم آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق بعض شقوں کی مختلف تشریحات کے باعث حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

اب تازہ پیش رفت میں دونوں ممالک نے اختلافی نکات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوحا میں اہم مذاکرات متوقع

امریکی حکام کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہونے والے متوقع مذاکرات میں امریکی تکنیکی ٹیم کے سربراہ نک اسٹیورٹ بھی شریک ہوں گے، جہاں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، بحری سلامتی اور رابطہ کاری کے نظام پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد ایسے عملی اقدامات پر اتفاق کرنا ہے جن سے خطے میں کشیدگی کم ہو اور عالمی تجارت بلا تعطل جاری رہ سکے۔

بندرگاہوں اور بحری راستوں پر پیش رفت

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی میں نرمی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے بھرپور تعاون کرے گا۔

اس سے قبل دونوں ممالک آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی نگرانی اور ہنگامی رابطوں کے لیے براہ راست “ہاٹ لائن” قائم کرنے پر بھی متفق ہو چکے تھے، تاہم یہ نظام تاحال عملی طور پر فعال نہیں ہو سکا۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف

اب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان اطلاعات پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس کے باعث بعض سفارتی حلقے مذاکرات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں واقعی معطل رہتی ہیں اور دوحا مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر بھی مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے، جہاں کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر پڑتا ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس پیش رفت کو محتاط امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ کئی صارفین نے جنگ بندی اور مذاکرات کو خوش آئند قرار دیا، جبکہ بعض نے کہا کہ مستقل امن کا انحصار عملی اقدامات اور معاہدوں پر عمل درآمد سے ہوگا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حالیہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کم از کم عارضی طور پر فوجی تصادم سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ اگر دوحا میں ہونے والے مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع میں نمایاں کمی آ سکتی ہے اور خطے میں سفارتی عمل کو نئی زندگی مل سکتی ہے۔ تاہم مستقل امن کا راستہ اب بھی پیچیدہ اور طویل دکھائی دیتا ہے، کیونکہ متعدد اہم نکات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔