خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
جنوبی امریکی ملک وینزویلا بدترین قدرتی آفت کی لپیٹ میں آ گیا، جہاں چند سیکنڈ کے وقفے سے آنے والے دو انتہائی طاقتور زلزلوں نے دارالحکومت کراکس اور گرد و نواح میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں، درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے خبردار کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلا زلزلہ ریکٹر اسکیل پر 7.2 شدت کا تھا، جس کے صرف چند لمحوں بعد 7.5 شدت کا دوسرا اور زیادہ طاقتور جھٹکا محسوس کیا گیا۔ دونوں زلزلوں کا مرکز کراکس کے مغرب میں واقع علاقے کے قریب تھا جبکہ ان کے جھٹکے پورے وینزویلا اور پڑوسی ملک کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا تک محسوس کیے گئے۔
زلزلوں کے فوراً بعد شہری خوف و ہراس میں گھروں، دفاتر اور شاپنگ سینٹرز سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے۔ کئی رہائشی اور تجارتی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ متعدد مقامات پر ریسکیو اہلکار ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک کم از کم 32 افراد کی ہلاکت اور 700 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم یہ تعداد مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے نے اپنی ابتدائی تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ زلزلوں کی شدت، آبادی کے حجم اور متاثرہ علاقوں کو دیکھتے ہوئے جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔ ادارے کے تخمینے کے مطابق ہزاروں اموات کا امکان موجود ہے، تاہم یہ صرف ماڈل پر مبنی اندازہ ہے، حتمی سرکاری اعداد و شمار نہیں۔
زلزلوں سے وینزویلا کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے مائیکیٹیا ایئرپورٹ کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد تمام پروازیں معطل کر دی گئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں مسافروں اور عملے کو خوفزدہ حالت میں ٹرمینل سے باہر نکلتے اور چھتوں سے ملبہ گرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ حکام نے مکمل انجینئرنگ معائنے تک ایئرپورٹ بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
زلزلے ایسے وقت میں آئے جب وینزویلا میں قومی تعطیل تھی، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں اور عوامی مقامات پر موجود تھے۔ اسی باعث حکام کو خدشہ ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ کئی علاقوں میں بجلی، مواصلاتی نظام اور بنیادی شہری خدمات بھی متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
حکومت نے فوری طور پر ملک کے متاثرہ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ہسپتالوں، ریسکیو اداروں اور سیکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر متحرک کر دیا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں بھی متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کی جا رہی ہیں تاکہ ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کو تیز کیا جا سکے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹوفر لینڈاؤ نے وینزویلا کے عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس مشکل گھڑی میں ہر ممکن امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق امدادی ٹیموں، طبی سامان اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے جاری ہیں۔
ماہرین کی رائے
زلزلہ شناسی کے ماہرین کے مطابق اتنی مختصر مدت میں 7.2 اور 7.5 شدت کے دو بڑے زلزلوں کا آنا ایک غیر معمولی صورتحال ہے، جسے “سیسمک ڈبلٹ” کہا جاتا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ کئی روز تک آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے وینزویلا کے عوام کے لیے دعائیں اور اظہارِ یکجہتی کے پیغامات سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف ممالک نے بھی امدادی تعاون اور ریسکیو ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق وینزویلا کو حالیہ برسوں کی سب سے بڑی قدرتی آفت کا سامنا ہے۔ اگرچہ ابتدائی سرکاری اعداد و شمار محدود ہیں، لیکن تباہی کی شدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد نقصانات میں نمایاں اضافہ سامنے آ سکتا ہے۔ اس مرحلے پر ہزاروں ہلاکتوں کے دعوے کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنے کے بجائے احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے کیونکہ اس کی سرکاری تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔