عالمی تجارت محفوظ بنانے کیلئے عمان کا بڑا اقدام، نیا ٹرانزٹ کوریڈور قائم

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

عمان نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم سفارتی اور بحری اقدام کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے International Maritime Organization (آئی ایم او) کے تعاون سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے ایک عارضی ٹرانزٹ کوریڈور قائم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی بحری تجارت کو محفوظ بنانا، توانائی کی سپلائی کو بلا تعطل جاری رکھنا اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے منفی اثرات کو کم کرنا ہے۔

عمان کے میری ٹائم سیکیورٹی سینٹر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیا ٹرانزٹ کوریڈور بین الاقوامی قانون کے مطابق قائم کیا جا رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی اور دیگر بحری جہاز محفوظ انداز میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

بیان کے مطابق اس راہداری سے گزرنے والے تمام جہازوں کو انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے ساتھ پیشگی رابطہ اور ضروری رابطہ کاری کرنا ہوگی تاکہ جہازوں کی نقل و حرکت منظم اور محفوظ رہے۔

عالمی تجارت کے لیے اہم پیش رفت

عمانی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد عالمی سطح پر بحری تجارت اور سپلائی چین کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف بحری جہازوں کا اعتماد بحال ہوگا بلکہ عالمی منڈیوں تک تیل، گیس اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل بھی متاثر نہیں ہوگی۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان ایشیا، یورپ اور دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اسی لیے اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی قیمتوں، شپنگ انڈسٹری اور عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق عمان کا یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

ان کے مطابق اگر یہ ٹرانزٹ کوریڈور مؤثر انداز میں کام کرتا ہے تو شپنگ کمپنیوں کے خدشات میں کمی آئے گی، انشورنس اخراجات کم ہو سکتے ہیں اور عالمی سپلائی چین مزید مستحکم ہوگی۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس اعلان کو ملا جلا ردعمل ملا۔ کئی صارفین نے اسے عالمی تجارت کے لیے خوش آئند پیش رفت قرار دیا، جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے صرف عارضی بحری راہداری نہیں بلکہ مستقل سفارتی حل بھی ضروری ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق عمان نے ایک بار پھر خود کو خطے میں اعتدال پسند اور مؤثر ثالث کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے۔ آبنائے ہرمز میں عارضی ٹرانزٹ کوریڈور کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری کسی بھی قیمت پر اس اہم بحری گزرگاہ کو بند ہونے سے بچانا چاہتی ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہتا ہے تو نہ صرف عالمی تجارت بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔