ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قراردے دیا،چین دورے کی دعوت قبول کرلی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ایک گھنٹے کی مثبت اور خوشگوار ٹیلی فونک گفتگو کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ اپریل 2026 میں بیجنگ کا سرکاری دورہ کریں گے۔

اسی دوران شی جن پنگ کو بھی 2026 کے دوسرے نصف میں امریکہ آنے کی دعوت دی گئی ہے، جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔

یہ اعلان دونوں رہنماؤں کے درمیان یوکرین کی جنگ، تائیوان کے تنازع، اور سویا بین کی تجارت سمیت اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کے بعد سامنے آیا۔

شی جن پنگ نے کہا کہ تائیوان کا چین میں واپس آنا دوسری عالمی جنگ کے بعد کے بین الاقوامی نظام کا لازمی حصہ ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ شی جن پنگ ایک عظیم رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری گفتگو بہت مفید رہی، جس میں یوکرین، فینٹانیل کی سمگلنگ روکنے اور امریکی کسانوں کے لیے سویا بین کی بڑھتی ہوئی خریداری شامل تھی۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیویٹ نے تصدیق کی کہ یہ کال تقریباً ایک گھنٹہ طویل تھی اور اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان حالیہ ٹیرف معاہدے کی بنیاد پر تجارت کو مزید مستحکم کرنا تھا۔

واضح رہے کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا کے شہر بسآن میں ملاقات کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے ٹیرف جنگ کو روکنے اور نایاب معدنیات کی برآمدات سمیت نئے تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔