رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
Donald Trump نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ Iran پر “فیصلہ کن حملہ” Pakistan کی درخواست پر روکا گیا۔
Fox News کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کی بعض “بہت اچھی شخصیات” نے امریکا سے رابطہ کیا اور ایران کے خلاف کارروائی روکنے کی درخواست کی۔
Donald Trump کے مطابق ان شخصیات نے کہا کہ “کیا آپ رک سکتے ہیں؟ ہم ڈیل کروا دیں گے”، جس کے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا گیا۔
“امریکا وہی کرے گا جو درست ہوگا”
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ایران کے معاملے میں وہی قدم اٹھائے گا جو اسے درست محسوس ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ Strait of Hormuz کھلی رہے گی اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے آبنائے ہرمز کی کھلی رہنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
پاکستان کی سفارت کاری پھر موضوعِ بحث
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایک بار پھر Pakistan کی سفارتی کوششیں عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکا کشیدگی کے دوران پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ٹرمپ کا بیان درست ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جا سکتی ہے، کیونکہ ممکنہ بڑے عسکری تصادم کو روکنے میں اس کا کردار سامنے آیا ہے۔
چین اور تائیوان پر بھی گفتگو
انٹرویو کے دوران Donald Trump نے China اور Taiwan سے متعلق بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ چینی صدر کے لیے تائیوان ہمیشہ ایک اہم مسئلہ رہا ہے، تاہم “جب تک میں موجود ہوں، مجھے نہیں لگتا چین کوئی بڑا اقدام کرے گا۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تائیوان میں چِپ بنانے والی تمام بڑی کمپنیاں امریکا منتقل ہو کر وہاں اپنی پیداوار کریں تاکہ امریکا ٹیکنالوجی کے میدان میں مزید مضبوط ہو سکے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق Strait of Hormuz سے متعلق کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے امریکا اور دیگر عالمی طاقتیں اس راستے کو محفوظ رکھنے پر زور دے رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ Pakistan کی جانب سے ثالثی یا سفارتی رابطوں کی خبریں اس بات کا اشارہ ہیں کہ خطے میں اسلام آباد کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات آنے والے دنوں میں ایران، امریکا اور خطے کی سیاست پر مزید اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔