کراچی:نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مشاہد حسین سید اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں دوست ممالک کی تعداد بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ نئے محاذ کھولنے پر۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی قربتیں پاکستان کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ اشتراک طویل عرصے سے موجود ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے بعض مفادات مشترک ہیں اور خطے کی سیاست میں ان کا تعاون واضح ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض عالمی فورمز پر پاکستان کو مسئلہ کشمیر بھی زیادہ مؤثر انداز میں اٹھانا چاہیے تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق پاکستان میں کبھی کوئی باضابطہ پیش رفت نہیں ہوئی اور عوامی ردعمل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی اشرافیہ کا ایک طبقہ مختلف خیالات رکھتا ہے، تاہم قومی پالیسی عوامی جذبات سے ہم آہنگ ہونی چاہیے۔ ایران اور امریکا کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ خطے کی صورت حال کسی بھی وقت نیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔
سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور اصول اور قومی مفادات ہونے چاہئیں، نہ کہ کسی کو خوش یا ناراض کرنا۔ ان کے مطابق بھارت اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات ایک حقیقت ہیں، تاہم پاکستان کو اپنی حکمت عملی سوچ سمجھ کر ترتیب دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بعض بیانات پر امریکی انتظامیہ کی خاموشی بھی معنی خیز سمجھی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے “بورڈ آف پیس” کے حوالے سے کہا کہ اس فورم میں فلسطین کی نمائندگی نہ ہونا ایک اہم پہلو ہے۔ ان کے مطابق ایک ویڈیو میں غزہ کی تباہی کا ذمہ دار صرف حماس کو قرار دیا گیا جبکہ اسرائیل کا ذکر نہیں کیا گیا، جس پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کسی بھی ایسے فورم میں شمولیت سے قبل اس کے سیاسی اور سفارتی مضمرات کا مکمل جائزہ لینا چاہیے تاکہ قومی مؤقف میں ابہام پیدا نہ ہو۔
2