قائمہ کمیٹی میں ٹول پلازوں کے ٹھیکے ایک ہی شخص کو ملنے کا انکشاف

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ٹول پلازوں کی الاٹمنٹ سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا، جہاں بتایا گیا کہ متعدد کمپنیاں ایک ہی فرد کی ملکیت ہیں اور زیادہ تر ٹول پلازوں کے ٹھیکے انہی کمپنیوں کو دیے گئے۔

سید حفیظ الدین کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے منصوبوں کی رفتار سست ہونے پر متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کی۔

بریفنگ دیتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے حکام نے بتایا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ مالی وسائل کی عدم دستیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر منصوبوں کے لیے مطلوبہ فنڈز ایک ساتھ فراہم کیے جائیں تو انہیں مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جا سکتا ہے، تاہم اس وقت ترقیاتی منصوبوں کے لیے بجٹ سالانہ اقساط کی صورت میں مختص کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے کام کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 109 ٹول پلازے قائم کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 90 کی ٹینڈرنگ مکمل ہو چکی ہے۔ حکام کے مطابق 10 ٹول پلازوں کا انتظام نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے سپرد کیا گیا ہے، جبکہ باقی مختلف نجی کمپنیوں کے پاس ہیں۔

اس موقع پر کمیٹی کے کنوینیئر نے دعویٰ کیا کہ ایک ہی شخص نے مختلف ناموں سے کئی کمپنیاں قائم کر رکھی ہیں اور انہی کمپنیوں کو بڑی تعداد میں ٹول پلازوں کے ٹھیکے ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اخبارات میں بھی رپورٹ ہو چکا ہے اور سندھ میں اس حوالے سے عام طور پر بات کی جاتی ہے۔

کمیٹی نے معاملے کی مزید جانچ کے لیے آئندہ اجلاس میں ٹول پلازوں کی ٹینڈرنگ سے متعلق تمام ریکارڈ اور دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔ ساتھ ہی چیئرمین این ایچ اے اور سیکرٹری مواصلات کو بھی اگلے اجلاس میں طلب کر لیا گیا۔

کنوینیئر نے واضح کیا کہ اگر دونوں اعلیٰ حکام اجلاس میں شریک نہ ہوئے تو ان کے خلاف تحریکِ استحقاق لانے پر غور کیا جائے گا۔

اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے سکھر۔حیدرآباد موٹروے اور پورٹ قاسم سے ایم نائن تک مجوزہ منصوبے کی پیش رفت اور دیگر تفصیلات بھی آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔