خیبرپختونخوا میں امن و امان کی ذمہ داری نبھانے والا پولیس کا نظام اس وقت شدید افرادی بحران کا شکار ہے، جہاں اہلکاروں کی ہزاروں اسامیاں خالی ہونے کے باعث محکمے کی کارکردگی پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ دستاویزات اور اعلیٰ حکام کے بیانات نے صورتحال کی سنگینی واضح کر دی ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کو مجموعی طور پر 15 ہزار 306 اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، جو کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر رینک تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان میں اعلیٰ سطح پر بھی خلا موجود ہے، جہاں 130 انسپکٹرز کی کمی رپورٹ کی گئی ہے۔
مزید تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ کمی کانسٹیبلز کی ہے، جن کی 9 ہزار 672 اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ اسی طرح پولیس کو 2 ہزار 181 ہیڈ کانسٹیبلز اور 2 ہزار 139 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (ASIs) کی بھی کمی درپیش ہے۔ سب انسپکٹرز کی سطح پر بھی 1 ہزار 175 اہلکاروں کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دستاویز میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ صوبے کی پولیس فورس میں خواتین کی نمائندگی نہایت محدود ہے۔ اس وقت صرف ایک خاتون پولیس انسپکٹر خدمات انجام دے رہی ہے، جبکہ سب انسپکٹرز کی سطح پر صرف 7 خواتین اور ASI رینک پر محض 21 خواتین اہلکار موجود ہیں۔
دوسری جانب انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورا پاکستان اگر دہشت گردی سے متاثرہ خطہ ہے تو اس میں سب سے زیادہ اثر خیبرپختونخوا پر پڑا ہے، مگر اس کے باوجود یہاں پولیس کو مطلوبہ وسائل اور افسران کی کمی کا سامنا ہے۔
آئی جی پولیس کے مطابق صوبے میں پاکستان پولیس سروس (PSP) افسران کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور گلگت بلتستان کو ہارڈ ایریا قرار دیا گیا ہے لیکن خیبرپختونخوا کو وہ درجہ نہیں دیا گیا، جس پر وفاقی حکومت سے بات چیت جاری ہے اور پی ایس پی افسران کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں خیبرپختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے، اور گزشتہ سال ہونے والے دہشت گردی کے 50 فیصد سے زائد واقعات اسی صوبے میں پیش آئے۔
آئی جی کے مطابق اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ پولیس اہلکاروں کو بلوچستان کی طرز پر بنیادی تنخواہ اور مراعات فراہم کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا میں شہدا پیکیج دیگر تمام صوبوں کے مقابلے میں کم ہے، جس میں بہتری کی ضرورت ہے۔