ٹی بی ٹیسٹ کٹس کی شدید کمی، ہر مریض کا جدید طریقہ سے ٹیسٹ ناممکن ، پرانا طریقہ بحال

ملک میں ٹی بی کی تشخیص کا نظام ایک بڑے بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں ضروری ٹیسٹنگ کٹس کی شدید کمی نے صحت کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صورتحال کے باعث مریضوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں تاخیر کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ حکام کو ہنگامی اقدامات پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

ذرائع کے مطابق ٹی بی ٹیسٹ کٹس کی قلت کے بعد وزارت صحت نے فوری طور پر ایمرجنسی نوعیت کی پابندیاں نافذ کر دی ہیں اور ملک بھر میں جدید تشخیصی ٹیسٹوں کے استعمال کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد موجودہ دستیاب کٹس کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنا ہے۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ کٹس کی کمی کے پیش نظر جین ایکسپرٹ (GeneXpert) ٹیسٹ کے استعمال میں واضح کمی لائی گئی ہے، اور اب ہر مشتبہ مریض کے لیے یہ جدید ٹیسٹ دستیاب نہیں ہوگا۔ ابتدائی تشخیص کے لیے مریضوں کو روایتی اور پرانے طریقہ کار کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف انتہائی ناگزیر اور سنگین نوعیت کے کیسز میں ہی جدید ٹیسٹنگ کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ملک بھر کے اسپتالوں اور لیبارٹریوں کو اس حوالے سے سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ استعمال کو محدود رکھا جائے۔

اس کے ساتھ ساتھ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صرف مخصوص اور پیچیدہ مریضوں کے لیے ہی جدید ٹیسٹ سہولت برقرار رہے گی، تاکہ وسائل کا درست استعمال ممکن بنایا جا سکے۔

اہم ہدایت کے مطابق بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے جین ایکسپرٹ ٹیسٹ کی سہولت کو جاری رکھا جائے گا تاکہ ان حساس گروپوں کی تشخیص متاثر نہ ہو۔

وزارت صحت نے کارٹریجز کی بچت کے لیے سخت نگرانی کا نظام بھی نافذ کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ تمام صوبائی ٹی بی پروگرامز کو فوری طور پر ان ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔

مزید یہ کہ ترجیحی بنیادوں پر ان مریضوں کو جدید ٹیسٹ فراہم کیا جائے گا جو پہلے سے ٹی بی کے تصدیق شدہ ہوں، جبکہ ایچ آئی وی کے ساتھ ٹی بی میں مبتلا مریضوں کو بھی اس ترجیحی فہرست میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ان کی بروقت تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ جین ایکسپرٹ کٹس (GeneXpert kits) جدید طبی تشخیصی نظام کا حصہ ہیں جو خاص طور پر ٹی بی (تپ دق) کی جلد اور درست تشخیص کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

یہ ایک لیبارٹری ٹیسٹ سسٹم ہے جس میں مریض کے تھوک (sputum) یا دیگر نمونوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے چند گھنٹوں میں یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مریض کو ٹی بی ہے یا نہیں، اور بعض صورتوں میں یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ بیماری کون سی ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتی ہے۔

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ ٹیسٹ بہت زیادہ تیز اور درست نتائج دیتا ہے، جس سے مریض کا علاج جلد شروع کیا جا سکتا ہے۔

جین ایکسپرٹ سسٹم میں خاص “کارٹریجز” استعمال ہوتے ہیں، جن میں کیمیکل ری ایجنٹس موجود ہوتے ہیں۔ یہی کٹس نمونے کو پراسیس کر کے خودکار طریقے سے نتیجہ ظاہر کرتی ہیں۔

اسی وجہ سے یہ کٹس ٹی بی جیسے متعدی مرض کی بروقت تشخیص میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں، اور ان کی کمی صحت کے نظام پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔