اسلام آباد: دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان لبنان میں اسرائیلی حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جن کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اقدامات نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی سطح پر جاری سفارتی کوششوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جبکہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں۔
ترجمان کے مطابق عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری اور مؤثر اقدامات کے ذریعے اس جارحیت کو روکے، جبکہ پاکستان لبنان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور اس کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل کے لبنان بھر میں بڑے پیمانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے۔
سیکرٹری جنرل کے جاری کردہ بیان کے مطابق ان حملوں میں سیکڑوں شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جبکہ شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں جاری فوجی سرگرمیاں جنگ بندی کے امکانات اور خطے میں پائیدار امن کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی لبنان پر بڑے پیمانے پر حملے کیے گئے، جن میں 254 افراد شہید اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے محض 10 منٹ کے دوران لبنان پر 100 سے زائد فضائی حملے کیے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان شامل نہیں، جبکہ اسرائیل نے بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوتا۔
اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں لبنان کا واضح ذکر کیا تھا، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔