ایران کے خلاف جنگ میں نیتن یاہو نے کون سے اہداف حاصل کر لئے؟اہم انٹرویو میں انکشافات

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں نصف سے زائد اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے ایک امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ جنگ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس کے اختتام کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔
نیتن یاہو کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ہزاروں اہلکار مارے جا چکے ہیں، جو اس کارروائی کی بڑی کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل ایران کی اسلحہ ساز صنعت کو بھی شدید نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے اور اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے قریب ہے۔
وزیر اعظم نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ایران میں موجودہ اسلامی جمہوری نظام کا خاتمہ ممکن ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ جنگ کا بنیادی مقصد نہیں تھا۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو جنگ کے آغاز کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ یہ کارروائی چار سے چھ ہفتوں کے اندر مکمل ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ یہ جنگ طویل عرصے کے بجائے چند ہفتوں تک محدود رہے گی۔
ادھر نیتن یاہو اور ٹرمپ متعدد مواقع پر یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب ہے، تاہم یہ مؤقف اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی رپورٹس سے متصادم قرار دیا جاتا ہے۔