جرمنی میں طاعون کی اجتماعی قبر دریافت، ہزاروں افراد کی باقیات سامنے آ گئی

اسلام آباد/برلن (سائنس اینڈ ہسٹری ڈیسک –محسن اقبال) محققین نے جرمنی کے تاریخی شہر ارفرٹ کے قریب قرون وسطیٰ کے ایک گاؤں میں طاعون (بلیک ڈیتھ) سے مرنے والے ہزاروں افراد کی اجتماعی قبر دریافت کر لی ہے۔ یہ دریافت اپنی نوعیت کی پہلی سائنسی تصدیق شدہ بڑی قبر ہے جو 14ویں صدی کی سب سے تباہ کن وباء سے براہ راست منسلک ہے۔

1347 سے 1383 تک پھیلنے والی ‘بلیک ڈیتھ’ نامی یہ وباء نے یورپ کی تقریباً نصف آبادی کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ تاریخی ریکارڈز کے مطابق ارفرٹ شہر کے باہر بڑے گڑھوں میں تقریباً ۱۲ ہزار افراد کو دفن کیا گیا تھا، مگر ان قبروں کی درست جگہ کبھی تلاش نہ ہو سکی تھی۔

اب ایک انٹر ڈسپلنری ریسرچ ٹیم نے تاریخی دستاویزات، زمینی پیمائش (جیو فزیکل سروے)، اور سیڈیمنٹ کور کے تجزیے کے ذریعے ان گڑھوں میں سے ایک کی مکمل نشاندہی کر دی ہے۔ یہ قبر ارفرٹ کرونِکلز میں بیان کیے گئے طاعون کے بڑے مدفن سے مطابقت رکھتی ہے۔

لیپزگ یونیورسٹی کے جغرافیہ دان مائیکل ہائن نے کہا:

“مطالعے کے نتائج اس بات کی مضبوط شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے ارفرٹ کرونِکلز میں بیان کیے گئے طاعون کی اجتماعی قبروں میں سے ایک کی نشاندہی کر لی ہے۔ یہ دریافت ہمیں اس تباہ کن وباء کے اثرات کو سمجھنے میں نئی بصیرت دیتی ہے۔”

یہ دریافت نہ صرف تاریخی دستاویزات کی تصدیق کرتی ہے بلکہ قرون وسطیٰ میں طاعون سے ہونے والی اموات کے پیمانے اور تدفین کے طریقوں کو بھی واضح کرتی ہے۔

ماہرین کی رائے یورپی آثار قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قبر ‘بلیک ڈیتھ’ کے مطالعے کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ شہروں کے باہر بڑے پیمانے پر اجتماعی تدفین کی جاتی تھی تاکہ وباء کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ یہ دریافت مستقبل میں جینیاتی تجزیے کے ذریعے طاعون کے بیکٹیریا (Yersinia pestis) کی مزید تحقیق کے دروازے کھول سکتی ہے۔

 یہ دریافت قرون وسطیٰ کی سب سے بڑی انسانی تباہی کو زندہ کرتی ہے۔ ‘بلیک ڈیتھ’ نے یورپ کی آبادی، معیشت اور سماجی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا تھا۔ اس قبر کی دریافت سے نہ صرف تاریخی ریکارڈز کی تصدیق ہوئی ہے بلکہ یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کس طرح بڑے پیمانے پر اموات کا سامنا کرتا تھا۔

آج کے دور میں جب وباؤں (جیسے کووڈ-۱۹) کا سامنا ہے، یہ دریافت ہمیں ماضی سے سبق دیتی ہے کہ اجتماعی تدفین اور وباء کے انتظام میں تیزی اور منظم طریقہ کتنا اہم ہوتا ہے۔ یہ دریافت آثار قدیمہ اور تاریخ کے طلبہ کے لیے ایک نئی تحقیق کا آغاز بھی ہے۔

آپ کو یہ تاریخی دریافت کیسی لگی؟ کیا ‘بلیک ڈیتھ’ جیسی وبائیں آج بھی ممکن ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!