کراچی:ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔ آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہو گئے۔
فائر فائٹرز نے متاثرہ عمارت سے گزشتہ رات سے اب تک مزید ایک بچے سمیت 5 افراد کے اعضاء نکالے ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک فائر فائٹر سمیت 15 ہو گئی ہے، جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک ہلاک شدگان میں ایک خاتون شامل ہے اور باقی تمام مرد ہیں۔ آپریشن کے دوران لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس (40 سال)، فراز ولد ابرار (55 سال)، محمد عامر ولد نامعلوم (30 سال)، فرقان ولد شوکت علی (25 سال) سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔
زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم (25 سال)، وسیم ولد سلیم (20 سال)، دانیال ولد سراج (20 سال)، صادق ولد نامعلوم (35 سال)، حمزہ ولد محمد علی (22 سال)، رحیم ولد گل محمد (25 سال)، فہد ولد محمد ایوب (20 سال)، جواد ولد جاوید (18 سال)، ایان ولد نامعلوم (25 سال)، عبداللہ ولد ظہیر (20 سال)، عثمان ولد اصغر علی (20 سال)، فہد ولد حنیف (47 سال)، زین ولد عبداللہ (23 سال)، نادر ولد نامعلوم (50 سال) اور دیگر شامل ہیں۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل جاری ہے۔
اس سے قبل پیر کی صبح تک گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل قابو نہیں پایا جا سکا تھا، کیونکہ عمارت کے عقبی حصے کے سیکنڈ فلور اور گراؤنڈ فلور میں اب بھی آگ موجود تھی۔
گل پلازہ کی عقبی جانب فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے دوران عمارت سے آوازیں آنے لگیں۔
فائر بریگیڈ کے مطابق عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور گرنے کا خطرہ موجود ہے، اسی وجہ سے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے اور اب صرف ملبے کو ہٹانے کا عمل جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق گل پلازہ کے قریب عمارت میں آتشزدگی کے باعث ملبے تلے سے رات گئے ایک شخص کی لاش نکالی گئی، جس کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، جبکہ دوسری لاش ٹکڑوں کی شکل میں برآمد ہوئی، جسے ضابطے کی کارروائی کے بعد سول اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کراچی میں واقع یہ معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی، جو مسلسل بڑھتی گئی۔ فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں، مگر آگ بڑھتی رہی اور عمارت کے دو حصے گر گئے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 80 فیصد قابو پا لیا گیا ہے اور کئی مقامات پر شعلے مدھم ہو گئے ہیں۔ فائر اینڈ ریسکیو کے رضاکاروں کو اندر بھیجنا شروع کر دیا گیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے آگ کے حوالے سے بتایا کہ پولیس نے 59 مسنگ افراد کے بارے میں مختلف لوگوں سے رابطہ کیا اور تمام افراد کے موبائل نمبرز حاصل کر لیے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 26 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کے قریب معلوم ہوئی ہے، جبکہ دیگر افراد کی لوکیشن کی اسکرونٹی جاری ہے اور پولیس موبائل نمبرز پر مزید کام کر رہی ہے۔
اسپتالوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دھوئیں سے متاثر ہونے والے افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔ دو فائر فائٹرز، ارشاد اور بلال، زخمی ہوئے جو پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں۔ مجموعی طور پر تیس افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 13 برنس سینٹر، 15 ٹراما سینٹر اور 2 جناح اسپتال لائے گئے۔