نیتن یاہو اپنے منطقی انجام کے قریب ، تہلکہ خیز خبر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل

اسرائیل کی وزارتِ انصاف کے شعبۂ معافی نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانی کے مقدمات میں صدارتی معافی دینے کی سفارش نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارتِ انصاف کے شعبۂ معافی نے اپنی قانونی رائے مکمل کرنے کے بعد اسے اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ کو ارسال کر دیا ہے۔

یہ دستاویز وزیرِ انصاف کی ہدایت پر وزیرِ ثقافت و ورثہ کے سپرد کی گئی ہے جو صدارتی دفتر تک تمام باضابطہ مراحل مکمل کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق وزارتِ انصاف کے شعبۂ معافی نے اپنی رائے میں واضح کیا ہے کہ وزیرِاعظم کی جانب سے دائر کی گئی معافی کی درخواست قانونی تقاضوں پر پوری نہیں اترتی، اس لیے اس مرحلے پر معافی دینا مشکل نظر آتا ہے۔

واضح رہے کہ بنیامین نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ اب بھی زیرِ سماعت ہے اور انہیں ابھی تک کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی۔

مزید یہ کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے اپنی معافی کی درخواست میں نہ تو کسی جرم کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ندامت یا پچھتاوے کا اظہار کیا ہے، جبکہ قبل از وقت معافی کے لیے یہ ایک اہم شرط سمجھی جاتی ہے۔

اسرائیل کی اعلیٰ عدالت اس سے قبل قرار دے چکی ہے کہ کسی شخص کو سزا سنائے جانے سے پہلے بھی معافی دی جا سکتی ہے، تاہم اس کے لیے لازم ہے کہ درخواست گزار اپنے جرم کا اعتراف کرے۔

ادھر یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی صدر پر بنیامین نیتن یاہو کو معافی دینے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم صدر اسحاق ہرزوگ نے واضح کیا تھا کہ وہ اس معاملے میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دباؤ سے بالاتر ہو کر اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔

یاد رہے کہ سن 2019 میں اسرائیل کے استغاثہ کے سربراہ نے بنیامین نیتن یاہو پر رشوت، دھوکہ دہی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے تھے۔

اگلے ہی برس تل ابیب کی ضلعی عدالت میں اسرائیلی وزیرِاعظم کے خلاف باقاعدہ طور پر مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تھا۔

اس کے بعد پانچ برس تک جاری رہنے والی مختلف سماعتوں کے دوران متعدد مضبوط شواہد بھی پیش کیے گئے، تاہم بنیامین نیتن یاہو ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتے رہے۔

البتہ سن 2025 میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری بدعنوانی کے مقدمے کے دوران صدارتی معافی کے لیے درخواست دائر کی تھی۔

اس اقدام پر ملک بھر میں مختلف اور متضاد آرا سامنے آئیں، اور اب وزارتِ انصاف کے شعبۂ معافی نے معافی کی سفارش نہ کرنے کی قانونی رائے تیار کر لی ہے، تاہم اس معاملے کا حتمی فیصلہ صدر اسحاق ہرزوگ ہی کریں گے۔