آبنائے ہرمز پر ایران کا سخت مؤقف، کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Iran اور United States کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایرانی حکومت نے امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے جنگ بندی تجاویز مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل دیا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے Islamic Republic of Iran Broadcasting (آئی آر آئی بی) نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی منصوبہ دراصل “ٹرمپ کی لالچ کے سامنے ایران کی ہتھیار ڈالنے” کے مترادف تھا، جسے تہران کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔

Al Jazeera کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں واضح کیا کہ تہران کی جانب سے دیے گئے جواب میں ایرانی قوم کے بنیادی حقوق، خودمختاری اور قومی مفادات پر زور دیا گیا ہے۔ ایران نے کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ قابل قبول نہیں ہوگا جو اس کی آزادی یا قومی سلامتی پر سمجھوتہ کرے۔

ایران کے سخت مطالبات

ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ تجاویز میں امریکا سے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ تنازعات اور اقتصادی پابندیوں سے ملک کو بھاری نقصان پہنچا، جس کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔

بیان میں Strait of Hormuz پر ایران کی خودمختاری کے مؤقف کو بھی دوٹوک انداز میں دہرایا گیا۔ تہران نے کہا کہ خطے کی سلامتی، تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت اور بحری گزرگاہوں کے معاملات میں ایران کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اس حوالے سے اس کا مؤقف “واضح اور غیر متزلزل” ہے۔

آئی آر آئی بی کے مطابق ایرانی جواب میں امریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں فوری ختم کی جائیں اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں۔

ٹرمپ پہلے ہی تجاویز مسترد کر چکے

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی ایرانی تجاویز کو “ناقابل قبول” قرار دے چکے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات اب صرف جنگ بندی تک محدود نہیں رہے بلکہ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، خطے میں اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات بھی تنازع کی بڑی وجوہات بن چکے ہیں۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک اپنے مؤقف میں نرمی نہ لائے تو کشیدگی میں اضافہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں اور توانائی سپلائی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق Strait of Hormuz دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔

عوامی اور عالمی ردعمل

سوشل میڈیا پر بھی ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر شدید بحث جاری ہے۔ کچھ حلقے ایران کے مؤقف کو خودمختاری کا دفاع قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو جنگی بیانات کے بجائے مذاکرات کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔

عالمی سفارتی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکراتی عمل مکمل طور پر ناکام ہوا تو خطے میں ایک نئے بحران کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔