ایران نے اپنی اہم ترین تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھجوادیں

لاہور:خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے عالمی سیاست اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرنے کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکا کو دی گئی ایک نئی پیشکش نہ صرف جاری تنازع کو کم کرنے کی کوشش ہے بلکہ اس میں خطے کے ایک حساس ترین راستے، آبنائے ہرمز، کو دوبارہ فعال بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

ایران نے اپنی اہم ترین تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکہ کو بھجوادیں

امریکی خبر رساں ادارے ایکزیوس کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا کے سامنے ایک نیا فریم ورک رکھا ہے، جس کی معلومات ایک امریکی عہدیدار اور اس معاملے سے آگاہ دیگر ذرائع نے فراہم کی ہیں۔ اس پیشکش میں مرحلہ وار حکمت عملی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی تجویز ہے کہ سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو کھولا جائے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں بحال ہو سکیں، اور اس کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کی جانب پیش رفت کی جائے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کو فوری ایجنڈے میں شامل کرنے کے بجائے بعد کے مراحل کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی یہ تجویز براہِ راست امریکا کو دینے کے بجائے پاکستان کے ذریعے پہنچائی، جو اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم سفارتی رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

رپورٹ میں یہ پہلو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی ناکہ بندی کے خاتمے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایران پر دباؤ برقرار رکھنا آسان نہیں رہے گا۔ خاص طور پر ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کے حوالے سے امریکا کے پاس محدود راستے باقی رہ جائیں گے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا کی خواہش ہے کہ ایران کم از کم دس سال تک یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں روک دے، تاہم ایران کی حالیہ پیشکش میں اس معاملے کو فوری طور پر زیر بحث نہیں لایا گیا، جس کے باعث مذاکرات مزید پیچیدہ صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خلیج میں تناؤ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی ترسیل اور توانائی کی منڈیوں پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔