سٹریس صرف دماغ نہیں، پورے نظامِ ہاضمہ کو متاثر کرتا ہے:طبی ماہرین

لاہور:روزمرہ زندگی کا دباؤ اکثر لوگوں کے لیے صرف ذہنی تھکن یا بے چینی تک محدود سمجھا جاتا ہے، مگر ماہرین صحت خبردار کر رہے ہیں کہ اس کے اثرات جسم کے ایک نہایت اہم نظام،نظامِ ہاضمہ تک بھی گہرائی سے پہنچتے ہیں، جہاں یہ مختلف پیچیدہ مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق جب انسان طویل عرصے تک ذہنی دباؤ یا اسٹریس کا شکار رہتا ہے تو جسم کے اندر ہارمونل توازن بگڑنے لگتا ہے۔ یہ تبدیلیاں صرف موڈ یا ذہنی کیفیت پر اثر انداز نہیں ہوتیں بلکہ آنتوں کی کارکردگی اور مدافعتی نظام کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

ماہرین اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ شدید دباؤ کے دوران دماغ جسم کو ہنگامی حالت میں ڈال دیتا ہے، جس کے نتیجے میں ایسے کیمیائی ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو براہِ راست نظامِ ہاضمہ کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے آنتوں کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہو جاتی ہیں اور مختلف ہاضمے کے مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔

جدید تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ آنتوں میں موجود فائدہ مند جرثوموں کی تعداد کم کر دیتا ہے، جو نہ صرف ہاضمے بلکہ جسمانی مدافعت اور ذہنی توازن کے لیے بھی نہایت ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس نقصان دہ بیکٹیریا میں اضافہ ہونے لگتا ہے، جو وقت کے ساتھ مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اسٹریس آنتوں کی اندرونی حفاظتی تہہ کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض نقصان دہ مادے خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور جسم میں سوزش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اگر یہ کیفیت مستقل رہے تو طویل مدت میں ہاضمے کی سنگین بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ ذہنی دباؤ نظامِ ہاضمہ کی رفتار کو بھی غیر متوازن کر دیتا ہے۔ کبھی یہ عمل سست ہو جاتا ہے اور کبھی غیر معمولی طور پر تیز، جس کے نتیجے میں اپھارہ، قبض یا اسہال جیسی شکایات عام ہو سکتی ہیں۔

صحت کے ماہرین دماغ اور آنتوں کے درمیان اس گہرے تعلق کو “برین گٹ کنکشن” قرار دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ذہنی سکون صرف دماغی صحت ہی نہیں بلکہ مضبوط ہاضمے کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

ماہرین نے اس صورتحال سے بچاؤ کے لیے چند اہم احتیاطی اقدامات تجویز کیے ہیں، جن میں متوازن اور صحت بخش غذا کا استعمال، روزانہ مناسب ورزش، پانی کا وافر استعمال، پوری نیند اور ذہنی سکون کے لیے مراقبہ یا ریلیکسیشن تکنیکیں شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پراسیسڈ فوڈز اور زیادہ شکر والی اشیاء سے پرہیز بھی آنتوں کی صحت کو بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔