وائٹ ہاؤس حملہ: ملزم کا فائرنگ سے 10 منٹ قبل بھیجا گیا پیغام سامنے آگیا

امریکی دارالحکومت میں ہونے والے ایک پُراسرار اور ہنگامہ خیز واقعے نے نیا موڑ اس وقت اختیار کر لیا جب واقعے میں ملوث ملزم کا حملے سے چند لمحے قبل اپنے اہلخانہ کو بھیجا گیا پیغام سامنے آ گیا۔ اس انکشاف نے تحقیقات کو ایک نئی سمت دے دی ہے اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قریب کورسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کرنے والے شخص کول ٹوماس ایلن نے کارروائی سے تقریباً دس منٹ پہلے اپنے خاندان کو ایک پیغام بھیجا تھا۔ اس پیغام میں اس نے اپنے ارادوں کا عندیہ دیا اور حکومت کی موجودہ انتظامیہ سے وابستہ بعض افراد کو نشانہ بنانے کی بات بھی کی۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق تحقیقات میں شامل دستاویزات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نے نہ صرف اپنے اقدام پر افسوس کا اظہار کیا بلکہ حکومتی عہدیداروں کے خلاف شدید ناراضی بھی ظاہر کی۔ اس نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ وہ ایک اہم کام کے لیے جا رہا ہے اور جلد واپس آئے گا۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم کی جانب سے سکیورٹی انتظامات پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن ہیلٹن ہوٹل میں حفاظتی اقدامات انتہائی کمزور تھے اور وہاں موجود نظام کسی بڑے خطرے کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس کے مطابق داخلی چیکنگ زیادہ تر باہر آنے جانے والوں اور احتجاج کرنے والے افراد تک محدود تھی، جبکہ اندر ٹھہرنے والے افراد کی مناسب جانچ نہیں کی گئی۔

ملزم نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر کوئی بیرونی ایجنٹ، بالخصوص ایرانی اہلکار، اسی مقام پر پہنچتا تو وہ زیادہ خطرناک اسلحہ بھی باآسانی اندر لے جا سکتا تھا اور کسی کو خبر تک نہ ہوتی۔ اس نے سکیورٹی کے اعتماد اور نگرانی کے طریقہ کار کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

تحقیقات کے مطابق کول ٹوماس ایلن نے واقعے سے قبل ہتھیار قانونی طور پر ایک ٹیکٹیکل فائرآرم ڈیلر سے حاصل کیے تھے۔ ان میں دو ہینڈ گنز اور ایک شاٹ گن شامل تھیں، جو بعد میں اس کے والدین کے گھر میں رکھی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے شوٹنگ رینج میں جا کر مشق بھی کرتا تھا۔

اسی دوران اس کے بیان میں ایک بھاری مشین گن کا ذکر بھی سامنے آیا، جسے عام طور پر “M2 براوننگ” یا “ما ڈیوس” کہا جاتا ہے۔ یہ امریکی فوج کی تاریخ میں طویل عرصے سے استعمال ہونے والا ایک انتہائی طاقتور ہتھیار سمجھا جاتا ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ صرف اس کے بیان کا حصہ ہے اور براہ راست استعمال کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔

واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے مختلف زاویوں سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ حملے کی منصوبہ بندی کتنی دیر سے کی جا رہی تھی اور اس میں کن عوامل نے کردار ادا کیا۔