ٹرمپ کا بڑا یو ٹرن، ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں میں 10 دن کی مزید مہلت

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) –امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران ایک اچانک اور اہم موڑ سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ فوجی حملوں میں مزید ۱۰ دن کی مہلت دے دی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی درخواست پر کیا گیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان انتہائی اہم اور مثبت مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی جزوی بحالی کی اجازت دے کر امریکا کو ایک اہم تحفہ دیا، جس کے بعد ٹرمپ کی جانب سے یہ غیر معمولی رعایت سامنے آئی۔

یہ مہلت ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے حوالے سے دی گئی ہے، جو گزشتہ کئی دنوں سے شدید تناؤ کا باعث بنی ہوئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دونوں طرف سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے، حالانکہ اب بھی بہت سے سوالات موجود ہیں کہ کیا یہ مہلت صرف عارضی ہے یا اس کے پیچھے کوئی بڑی سفارتی پیش رفت ہے۔

ٹرمپ کے اس اعلان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے اور اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آئندہ ۱۰ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کس نتیجے پر پہنچیں گے۔

صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کا یہ یو ٹرن ایک بڑا سیاسی اور سفارتی موڑ ہے۔ چند دن پہلے ہی ایران پر حملوں کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، مگر اب ۱۰ دن کی مہلت دے کر مذاکرات کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں تیل کی نقل و حرکت کی جزوی بحالی سے جڑا نظر آتا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے اہم ہے۔

اگر یہ مہلت کامیاب رہی اور دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ ہوا تو خطے میں تناؤ کم ہو سکتا ہے۔ البتہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کو بھی اس پیش رفت کے اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں اور علاقائی استحکام کے حوالے سے۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ اگلے ۱۰ دن کیا نتائج لے کر آتے ہیں۔

آپ کو ٹرمپ کا یہ فیصلہ کیسا لگا؟ کیا یہ حقیقی امن کی طرف قدم ہے یا صرف وقت خریدنے کی کوشش؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!