رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
Donald Trump نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ Iran کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج کے اسلحہ اور فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔
امریکی اخبار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گولہ بارود موجود ہے اور اس کی مقدار ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے مطابق امریکی دفاعی صلاحیت کے بارے میں گردش کرنے والی تشویش بے بنیاد ہے۔
امریکی فوجی ذخائر پر نئی بحث
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں امریکی عسکری قیادت نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں مزید وسیع ہوئیں تو فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعض فوجی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ MIM-104 Patriot اور دیگر دفاعی نظاموں میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائل محدود تعداد میں باقی رہ سکتے ہیں، جس سے مستقبل کی عسکری حکمت عملی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی فوج کا مؤقف
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ Brad Cooper کے مطابق موجودہ حالات میں امریکی افواج دستیاب دفاعی وسائل کے ساتھ مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کی موجودہ حکمت عملی ایران کی ممکنہ میزائل لانچنگ صلاحیت کو ابتدائی مرحلے میں نشانہ بنانے پر مرکوز ہے تاکہ بڑے پیمانے پر حملوں کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
حتمی فیصلہ ٹرمپ کریں گے
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی حتمی منظوری Donald Trump کی جانب سے دی جائے گی، جبکہ واشنگٹن مختلف عسکری آپشنز کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔
ماہرین کی رائے
دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکی فوجی ذخائر، فضائی دفاعی نظام اور ممکنہ جنگی حکمت عملی پر جاری بحث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ United States ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ہر ممکن عسکری اور سفارتی آپشن پر غور کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔