راولپنڈی:تحریکِ انصاف کے سیکرٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ مخالف قوتیں چاہتی ہیں کہ عمران خان کو اکیلا چھوڑ دیا جائے اور مفاہمت کے نام پر ذاتی مفاد حاصل کیے جائیں، تاہم تحریکِ انصاف ایسے کسی دباؤ کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔
عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کو گہری معاشی اور سیاسی کھائی میں دھکیل دیا گیا ہے، اور موجودہ نظام لڑکھڑا چکا ہے، جس کا کوئی مستقبل نہیں۔ ان کے مطابق یہ نظام رعونت اور نشے میں مبتلا ہو چکا ہے اور سمجھتا ہے کہ ظلم، عدالتوں کو مفلوج کر کے اور جبر کے ذریعے حکومت چلائی جا سکتی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری مکمل طور پر رک چکی ہے، غربت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اور کاروباری طبقے نے قومی بینکوں سے قرضے لینا بند کر دیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی ادارے، اسٹیٹ بینک اور بیورو آف اسٹیٹسٹکس خود تسلیم کر رہے ہیں کہ قومی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ ڈاکٹرز، انجینئرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کے باعث ملک چھوڑ رہے ہیں، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کراچی کے عوام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ موجودہ نظام سے نفرت کرتے ہیں، اور عوام کو اپنی بے زاری اور ناپسندیدگی بار بار ظاہر کرنی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ مفاہمت اسی صورت میں معنی خیز ہو سکتی ہے جب نظام یہ سمجھے کہ عوام اس سے بیزار ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ معیشت بہتر بنانے کے دعوے کرنے والوں نے اربوں کی سرمایہ کاری لانے کے بجائے ملکی معیشت کو مزید نقصان پہنچایا۔
سوال و جواب کے سیشن میں انہوں نے بتایا کہ یہ سب ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے: پہلے جھوٹے مقدمات بنائے جاتے ہیں، سزائیں دلوائی جاتی ہیں اور پھر اپیلوں کی سماعت تک نہیں ہونے دی جاتی۔
انہوں نے مثال دی کہ گجرانوالہ میں 51 کارکنوں کو پانچ، پانچ سال کی سزائیں دی گئیں، جبکہ ڈیڑھ سال سے ان کی اپیلیں التوا کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملٹری عدالتوں سے دی گئی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی اجازت نہیں دی جا رہی، حالانکہ سپریم کورٹ 45 دن میں اپیل کے حق دینے کا حکم دے چکی ہے، مگر دو سال گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ ایک ظالمانہ اور فرعونی نظام ہے، اور تحریکِ انصاف اس کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔