امتِ مسلمہ اگر حسینؑ کے راستے پر چل پڑے تو زوال ختم ہو سکتا ہے:پروفیسر علامہ کامران صدیق نوری

لاہور(خصوصی رپورٹ)بانی و سربراہ ادارہ جامعۃ النور و بزم نور مصطفیٰ، علامہ پروفیسر حافظ کامران صدیق نوری نے جامعہ النور رچنا ٹاؤن فیروزوالہ شہادت امام حسین کانفرنس اور جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومِ عاشور اسلامی تاریخ کا وہ عظیم اور درخشاں باب ہے جو رہتی دنیا تک حق، صداقت، صبر، استقامت اور قربانی کا پیغام دیتا رہے گا۔ نواسۂ رسول ﷺ امام حسین اور ان کے جاں نثار رفقاء نے میدانِ کربلا میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے انسانیت کو یہ سبق دیا کہ ظلم، جبر اور باطل کے سامنے سر جھکانے کے بجائے حق و انصاف کے لیے ڈٹ جانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ کربلا کی تپتی ریت پر بہنے والا خون صرف ایک معرکے کی داستان نہیں بلکہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے آزادی، غیرتِ ایمانی اور حریتِ فکر کا منشور ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے اہلِ بیت اور وفادار ساتھیوں کے ساتھ ایسی لازوال قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخِ عالم میں نہیں ملتی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ اصولوں، سچائی اور دین کی سربلندی کے لیے ہر قربانی دی جا سکتی ہے لیکن باطل کے سامنے جھکنا ایک مؤمن کی شان نہیں۔علامہ حافظ کامران صدیق نوری نے کہا کہ شہدائے کربلا کے مقدس لہو نے اسلام کی آبیاری کی اور امتِ مسلمہ کو یہ درس دیا کہ طاقت کا معیار تعداد یا اسلحہ نہیں بلکہ حق پر قائم رہنے کا عزم اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین ہے۔ امام حسینؑ کی شہادت نے ثابت کیا کہ وقتی طور پر ظلم غالب دکھائی دے سکتا ہے لیکن تاریخ ہمیشہ حق اور سچائی کا نام روشن کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو واقعۂ کربلا سے اتحاد، اخوت، صبر، برداشت، عدل، دیانت داری اور مظلوموں کی حمایت کا سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں جب معاشرہ نفرت، فرقہ واریت، خود غرضی اور اخلاقی زوال جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تو کربلا کا پیغام ہمیں محبت، رواداری، کردار سازی اور اجتماعی بھلائی کی طرف بلاتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یومِ عاشور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مسلمان اپنی ذات، گروہی مفادات اور دنیاوی خواہشات سے بالاتر ہو کر دین، انسانیت اور قومی وحدت کے لیے کردار ادا کریں۔ اگر امتِ مسلمہ امام حسینؑ کے صبر، استقامت، ایثار اور حق گوئی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لے تو بہت سے معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ یومِ عاشور کا اصل پیغام یہ ہے کہ حق کی خاطر ڈٹ جانا، مظلوم کا ساتھ دینا، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھنا ہی کامیاب زندگی کی ضمانت ہے۔

شہدائے کربلا کی عظیم قربانیاں آج بھی امتِ مسلمہ کو بیداری، اتحاد اور کردار کی بلندی کا درس دے رہی ہیں اور رہتی دنیا تک دیتی رہیں گی۔بزم نور مصطفیٰ ﷺ کی جانب سے شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں دودھ، ٹھنڈے مشروبات کی سبیل کا اہتمام کیا گیا۔ جامعۃ النور اور بزم نور مصطفیﷺ کی جانب سے شہدائے کربلا کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔