پیٹرول مہنگا نہیں، مگر نیا لیوی بوجھ آگیا؛ حکومت کا مالی سال کے آغاز پر بڑا فیصلہ

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں کے ڈھانچے میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نے اس لیوی کی شرح ڈھائی روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دی ہے، تاہم ساتھ ہی پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں ڈھائی، ڈھائی روپے فی لیٹر کمی بھی کر دی گئی ہے، جس کے باعث عوام کو فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کسی اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز پر پیٹرولیم محصولات کے نظام میں یہ ردوبدل کیا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقدامات کے لیے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جا سکے، جبکہ عوام پر فوری مالی بوجھ بھی نہ پڑے۔

کلائمیٹ سپورٹ لیوی کیا ہے؟

کلائمیٹ سپورٹ لیوی ایک ایسا محصول ہے جس کا مقصد موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، ماحول دوست منصوبوں، توانائی کے مؤثر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اقدامات کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے ایسے منصوبوں کے لیے مستقل مالی وسائل پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

قیمتیں کیوں نہیں بڑھیں؟

حکام کے مطابق اگرچہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کیا گیا ہے، لیکن اسی تناسب سے پیٹرولیم لیوی کم کر دی گئی ہے، جس کے باعث دونوں تبدیلیاں ایک دوسرے کو متوازن کر رہی ہیں۔

اسی وجہ سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں کی گئی، اور صارفین پہلے کی طرح موجودہ نرخوں پر ہی ایندھن خرید سکیں گے۔

نئے مالی سال کی مالیاتی حکمت عملی

اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت نئے مالی سال میں ٹیکس نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینے اور مختلف شعبوں سے محصولات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کے مطابق براہِ راست قیمتیں بڑھانے کے بجائے مختلف لیویز اور ٹیکسوں کی ساخت میں تبدیلی حکومت کی نئی مالیاتی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتی ہے۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اضافی محصولات واقعی ماحول دوست منصوبوں، قابلِ تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے پر خرچ کیے جائیں تو اس اقدام کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

تاہم ان کے مطابق شفافیت بھی ضروری ہے تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کن منصوبوں پر خرچ کی جا رہی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین نے قیمتیں برقرار رکھنے کو عوام کے لیے ریلیف قرار دیا، جبکہ کچھ افراد نے سوال اٹھایا کہ اگر قیمتیں تبدیل نہیں ہوئیں تو نئی لیوی کا مقصد اور اس کے استعمال کی مکمل تفصیلات بھی عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت نے نئے مالی سال کے آغاز پر ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جس میں عوام پر فوری قیمتوں کا بوجھ ڈالنے سے گریز کیا گیا، لیکن محصولات کی ساخت تبدیل کر دی گئی۔ مستقبل میں اس پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والے وسائل واقعی ماحولیاتی تحفظ اور عوامی مفاد کے منصوبوں پر خرچ ہوتے ہیں یا نہیں۔

آپ کے خیال میں کیا حکومت کا یہ فیصلہ درست ہے؟ کیا کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے حاصل ہونے والی رقم ماحول کے تحفظ پر خرچ ہونی چاہیے؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔