آخر کچھ لوگوں کو ہی مچھر زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ سائنس نے برسوں پرانا راز کھول دیا

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

گرمیوں کا موسم آتے ہی مچھروں کی بہتات اور ان سے بچاؤ کے مختلف ٹوٹکے سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگتے ہیں۔ کوئی لہسن کھانے کا مشورہ دیتا ہے، کوئی وٹامن بی کے استعمال کو مؤثر قرار دیتا ہے، جبکہ بعض افراد کیلے سے پرہیز یا سٹرونیلا موم بتیوں کو مچھروں سے نجات کا آسان حل سمجھتے ہیں۔ لیکن اب ماہرینِ حیاتیات نے اس حوالے سے سائنسی حقائق بیان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان میں سے بیشتر دعوؤں کی مضبوط سائنسی بنیاد موجود نہیں۔

حالیہ تحقیق کے مطابق مچھر کسی شخص کو اتفاقاً نہیں کاٹتے بلکہ وہ اپنے شکار کو مخصوص حیاتیاتی عوامل کی بنیاد پر منتخب کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر انسان کے جسم کی حرارت، سانس اور جسم سے خارج ہونے والی قدرتی بو مختلف ہوتی ہے، یہی فرق بعض افراد کو مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بنا دیتا ہے۔

صرف مادہ مچھر انسانوں کو کیوں کاٹتی ہیں؟

کینیڈا کی ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ماہرِ حیاتیات نوشا کیغوبادی کے مطابق صرف مادہ مچھر انسانوں کو کاٹتی ہیں کیونکہ انہیں اپنے انڈوں کی نشوونما کے لیے خون میں موجود غذائی اجزا کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان کے مطابق نر مچھر خون نہیں چوستے بلکہ وہ پودوں کے رس اور دیگر قدرتی ذرائع سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔

مچھر شکار کو کیسے تلاش کرتے ہیں؟

ماہرین کے مطابق مچھر اپنے شکار تک پہنچنے کے لیے تین بنیادی چیزوں کا سہارا لیتے ہیں۔

  • جسم سے خارج ہونے والی حرارت
  • سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ
  • جسم کی قدرتی بو

ہر انسان کے جسم کی خوشبو یا بو اس کے جینیاتی نظام، جلد پر موجود بیکٹیریا، جسمانی ساخت اور بعض اوقات حال ہی میں کھائی جانے والی غذا کے باعث مختلف ہوتی ہے، اسی لیے کچھ لوگ دوسروں کی نسبت زیادہ مچھروں کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔

کیا کیلا واقعی مچھروں کو متوجہ کرتا ہے؟

اس حوالے سے بھی دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق بعض افراد میں کیلا کھانے کے بعد جسمانی بو میں معمولی تبدیلی دیکھی گئی جس کے باعث وہ مچھروں کے لیے نسبتاً زیادہ پرکشش بن گئے، لیکن یہ اثر ہر شخص میں یکساں نہیں تھا۔

کچھ افراد پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا جبکہ بعض میں اس کا الٹا نتیجہ بھی سامنے آیا، اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف کیلے سے پرہیز کو مچھروں سے بچاؤ کا مؤثر طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

لہسن اور وٹامن بی کے بارے میں حقیقت

عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ لہسن یا وٹامن بی استعمال کرنے سے مچھر قریب نہیں آتے، تاہم ماہرین کے مطابق اب تک ہونے والی سائنسی تحقیقات میں اس دعوے کے حق میں کوئی مضبوط ثبوت سامنے نہیں آیا۔

البتہ چند مطالعات میں یہ ضرور دیکھا گیا کہ بیئر پینے کے بعد بعض افراد مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش بن سکتے ہیں، تاہم اس پر بھی مزید تحقیق جاری ہے۔

مچھروں سے بچنے کا مؤثر طریقہ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق مچھروں سے محفوظ رہنے کا سب سے مؤثر طریقہ جسمانی حفاظت ہے۔

اس کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔

  • مکمل آستین والے کپڑے پہنیں۔
  • معیاری انسیکٹ ریپیلنٹ استعمال کریں۔
  • جالی دار کھڑکیاں اور دروازے استعمال کریں۔
  • مچھر بھگانے والے برقی آلات یا ویپورائزر استعمال کریں۔
  • گھر کے اردگرد کھڑا پانی جمع نہ ہونے دیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹرونیلا موم بتیوں کے مؤثر ہونے کے حوالے سے بھی اب تک مضبوط سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں۔

مچھر بھی ماحول کا حصہ ہیں

اگرچہ مچھر کئی خطرناک بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا اور دیگر انفیکشنز کا سبب بنتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق قدرتی ماحولیاتی نظام میں ان کا بھی ایک اہم کردار موجود ہے۔

ان کے لاروا پانی میں موجود نامیاتی مادے اور جراثیم کو ختم کرتے ہیں، جبکہ بالغ مچھر ڈریگن فلائی، مچھلیوں، مینڈکوں اور دیگر جانداروں کی خوراک بنتے ہیں، جس سے قدرتی غذائی سلسلہ برقرار رہتا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھروں سے مکمل نجات کا کوئی جادوئی طریقہ موجود نہیں، بلکہ احتیاط، صفائی اور سائنسی طور پر مؤثر حفاظتی تدابیر ہی سب سے بہتر حل ہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس تحقیق کے بعد کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کیا۔ بعض افراد نے کہا کہ اب انہیں سمجھ آیا کہ ایک ہی جگہ بیٹھے افراد میں صرف چند لوگوں کو ہی مچھر زیادہ کیوں کاٹتے ہیں، جبکہ کئی صارفین نے گھریلو ٹوٹکوں کے بجائے سائنسی طریقوں کو اختیار کرنے پر زور دیا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق مچھروں سے متعلق معاشرے میں بے شمار روایتی تصورات موجود ہیں، لیکن نئی سائنسی تحقیقات یہ ثابت کر رہی ہیں کہ ہر دعویٰ درست نہیں ہوتا۔ جدید تحقیق سے یہ واضح ہوا ہے کہ جسم کی قدرتی خصوصیات ہی مچھروں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں، اس لیے غیر مصدقہ ٹوٹکوں کے بجائے سائنسی احتیاطی تدابیر اپنانا ہی دانشمندی ہے۔

آپ کے خیال میں مچھروں سے بچنے کا سب سے مؤثر طریقہ کیا ہے؟ کیا آپ نے بھی کبھی محسوس کیا ہے کہ مچھر دوسروں کے مقابلے میں آپ کو زیادہ کاٹتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔