(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بھارتی اداکارہ Reem Shaikh نے اپنی ذاتی زندگی اور شادی سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کسی غیر مسلم شخص سے شادی نہیں کر سکتیں، کیونکہ ان کے نزدیک مذہبی ہم آہنگی ایک بنیادی شرط ہے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران ریم شیخ نے کہا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کو بہت اہمیت دیتی ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی میں عبادات کا خاص مقام ہے، اسی لیے وہ ایسا شریکِ حیات چاہتی ہیں جو ان کے عقائد اور طرزِ زندگی سے ہم آہنگ ہو۔
اداکارہ کے مطابق وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتی ہیں اور روزوں کی پابندی بھی کرتی ہیں، جبکہ زندگی کے مشکل لمحات میں وہ سب سے پہلے اللہ سے رجوع کرتی ہیں، اس لیے ان کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان کا جیون ساتھی بھی اسی ایمان اور سوچ کا حامل ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شادی صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ ایک طویل سفر ہے، جس میں روحانی اور فکری ہم آہنگی انتہائی اہم ہوتی ہے، اور اسی بنیاد پر وہ کسی مختلف مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا تصور نہیں رکھتیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ریم شیخ کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں ان کی والدہ ہندو جبکہ والد مسلمان ہیں، جس کے باعث انہوں نے بچپن سے مختلف مذاہب کو قریب سے دیکھا اور سمجھا، تاہم اس کے باوجود انہوں نے اپنی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ریم شیخ کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید دور میں بھی کئی افراد اپنی ذاتی اور روحانی شناخت کو ترجیح دیتے ہیں، اور شادی جیسے اہم فیصلے میں مذہبی ہم آہنگی کو بنیادی حیثیت دیتے ہیں۔
یہ بیان نہ صرف ان کے ذاتی نظریات کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس وسیع بحث کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ آج کے معاشرے میں محبت، مذہب اور شناخت کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔