(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران نے امریکا کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی افواج نے Strait of Hormuz میں داخل ہونے یا کوئی آپریشن کرنے کی کوشش کی تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بیان ایرانی فوج کی جانب سے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump نے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کیلئے بحری مشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جو ایک اہم اور حساس پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ایرانی فوج کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کی سیکیورٹی مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے اور یہاں سے گزرنے والی ہر قسم کی بحری سرگرمی ایرانی افواج کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے ہونی چاہیے، بصورت دیگر سیکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایرانی حکام نے تجارتی جہازوں اور تیل بردار ٹینکرز کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بغیر اجازت یا پیشگی رابطے کے اس راستے سے گزرنے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ اس سے ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس گزرگاہ کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
بیان میں خاص طور پر امریکی افواج کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر وہ آبنائے ہرمز کے قریب آئے یا کسی قسم کی مداخلت کی کوشش کی تو فوری ردعمل دیا جائے گا، جو صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں عسکری کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے بڑی مقدار میں توانائی کی ترسیل ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس آبی راستے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں کسی بھی چھوٹے اقدام کے بڑے عالمی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔