اسلام آباد: ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی سے ملاقات کے بعد دونوں ہمسایہ اور برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تجارتی حجم کو سالانہ 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری تناؤ میں کمی کے لیے پاکستان کی جانب سے ادا کیے جانے والے سفارتی اور ثالثی کردار کو بھی سراہا۔
ملاقات کے دوران وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ بھائی چارے پر مبنی ہیں، جہاں ایک ملک کی پریشانی کو دوسرا ملک بھی اپنی پریشانی سمجھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کاوشیں خطے میں پیدا ہونے والی موجودہ کشیدگی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گی اور صورتحال جلد بہتر ہو جائے گی۔
محسن نقوی نے ایرانی قیادت، بالخصوص ڈاکٹر محمد باقر قالیباف، ڈاکٹر اسکندر مومنی اور سید عباس عراقچی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مشاورت اور رابطے مثبت نتائج سامنے لائیں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اپنے دورے کے دوران اتوار کے روز ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
ایرانی وزارت داخلہ کے حوالے سے ایرانی خبر رساں ادارے ایرنا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتہ کی شب پاکستانی وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اسکندر مومنی نے پاکستان کو خطے کا ایک اہم اور باوقار ملک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک صدیوں پر محیط مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، جن کی جڑیں نہایت مضبوط ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے رہبرِ معظم نے بھی اپنے ابتدائی پیغام میں پاکستان اور ایران کے درمیان موجود انہی گہرے اور دیرینہ تعلقات کا خصوصی ذکر کیا تھا۔