اب اصل تعداد سے زیادہ پلاٹ فروخت نہیں کیے جا سکیں گے، چیئرمین نیب

لاہور: ملک کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کے لیے اہم اقدامات کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، جن کا مقصد کاروباری نظام کو زیادہ شفاف، محفوظ اور منظم بنانا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب نذیر احمد نے لاہور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی بہتری کے لیے نئی اصلاحات پر کام جاری ہے۔ ان اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ شعبے میں اعتماد اور شفافیت کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جائیداد کے کاروبار میں فراڈ، فائل کلچر اور غیر واضح مالی معاملات جیسے دیرینہ مسائل کے خاتمے کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ ہاؤسنگ اسکیموں میں پلاٹوں کی فروخت اور ملکیت کی منتقلی ایک باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت ہوگی، جس سے بے ضابطگیوں اور قانونی تنازعات میں نمایاں کمی آئے گی۔

چیئرمین نیب نے مزید بتایا کہ نقد لین دین کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور مالی معاملات کو مرحلہ وار بینکاری نظام کے ذریعے انجام دینے کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مالی ریکارڈ زیادہ قابلِ اعتماد ہوگا اور شفافیت میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی رہائشی منصوبے میں فروخت کے لیے پیش کیے جانے والے پلاٹوں کی تعداد اصل دستیاب پلاٹوں سے زیادہ نہیں رکھی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ ہر پلاٹ کو ایک منفرد اور مکمل شناخت فراہم کی جائے گی تاکہ جعل سازی، دھوکا دہی اور خریداروں کو درپیش دیگر مسائل کی روک تھام کی جا سکے۔

اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمان سہگل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے شفاف نظام، انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرکاری اداروں میں گورننس کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔

تقریب کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مجوزہ اصلاحات رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کریں گی۔ ان اقدامات سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے بلکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی نئی رفتار ملنے کی امید ہے۔