وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خلیجی بحران کے پیٹرولیم مصنوعات پر اثرات، پاکستان میں موجودہ ایندھن کے ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لیے مزید ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مشکل حالات میں معاشی طور پر کمزور شہریوں کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔
اجلاس کو ایندھن کی بچت کے حکومتی اقدامات پر عملدرآمد، آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز اور موجودہ اسٹاک کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مربوط اقدامات کے ذریعے موٹرسائیکل اور رکشوں کے حامل افراد کی ملکیتی رجسٹریشن جلد از جلد مکمل کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ممکنہ ریلیف سے زیادہ سے زیادہ افراد فائدہ اٹھا سکیں۔
اجلاس میں وزیر اعظم کے ایندھن کی بچت اور سادگی مہم پر پیش رفت کے حوالے سے انٹیلیجنس بیورو کی آڈٹ رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ بچت و سادگی مہم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے، ملکی ضروریات کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور آئندہ کے لیے بھی مکمل انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ اشرافیہ کی بڑی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے کے باوجود جیٹ فیول کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ بچت مہم کے اقدامات کے ساتھ ادویات کا وافر ذخیرہ بھی یقینی بنایا گیا ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے تجاویز پیش کی گئی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کیا گیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو مسترد کرکے بچت سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی گئی۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے یہ ریلیف عام آدمی تک مؤثر انداز میں پہنچایا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ عالمی بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کے باعث ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آیا اور پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، وفاقی وزراء، معاونین خصوصی، ارکان قومی اسمبلی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جن میں محمد آصف، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، سید مصطفی کمال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، شزہ فاطمہ خواجہ، رانا مبشر اقبال، سردار اویس خان لغاری، رانا ثناء اللہ، بلال اظہر کیانی، طارق فاطمی، طلحہ برکی، انجینئر قمر الاسلام، ریاض الحق اور حافظ محمد نعمان شامل تھے۔
2