امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کے عمل کو اچھی رفتار سے جاری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ویک اینڈ (17-18 اپریل 2026) کے دوران بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔
ایریزونا میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ایرانی نیوکلیئر ڈسٹ (enriched uranium کا ذخیرہ جو پچھلے امریکی-اسرائیلی حملوں میں دفن ہوا تھا) واپس حاصل کر لے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور مجوزہ معاہدے میں کسی قسم کا مالی تبادلہ (کوئی پیسے کا لین دین) نہیں ہوگا۔
پاکستان کی تعریف اور کردار
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کی قیادت کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو زبردست اور غیر معمولی شخصیات قرار دیا۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں پاکستانی رہنماؤں نے ایران-امریکا مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں۔
انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر ڈیل اسلام آباد میں طے پاتی ہے تو وہ خود پاکستان کا دورہ کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کا شکریہ
ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ممالک نے بھرپور تعاون کیا اور غیر معمولی حوصلہ دکھایا۔
نیٹو پر تنقید
صدر ٹرمپ نے نیٹو کی جانب سے مدد کی پیشکش والی کال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکا کو نیٹو کی ضرورت نہیں، بلکہ نیٹو کو امریکا کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نیٹو کو ایک طرفہ سڑک قرار دیا اور کہا کہ یورپی ممالک خود اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
موجودہ صورتحال (18 اپریل 2026 تک)
- مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، لیکن ایران نے ٹرمپ کے کچھ دعوؤں (خاص طور پر نیوکلیئر مواد کی منتقلی) کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔
- امریکا کی طرف سے سٹریٹ آف ہارمز پر بلاکیڈ جاری ہے، جو ڈیل مکمل ہونے تک جاری رہے گی۔
- پچھلے ہفتے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں 20 سال کی معطلی (امریکا کی تجویز) بمقابلہ 5 سال کی معطلی (ایران کی تجویز) کا معاملہ اہم نکتہ رہا۔
- ٹرمپ نے وارننگ بھی دی ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو “دوبارہ بمباری” کا آغاز کر دیا جائے گا۔
یہ معاملہ ابھی تک الجھا ہوا ہے۔ دونوں فریقوں کے بیانات میں فرق نظر آ رہا ہے، لیکن پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ اگلے چند دنوں میں ویک اینڈ مذاکرات کے نتیجے میں مزید واضح صورتحال سامنے آ سکتی ہے۔