موسم نے خطرناک رخ اختیار کر لیا، بارشیں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ ۔ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر کے بعد موسم نے نیا رخ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے بالائی علاقوں میں مغربی ہواؤں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کرتے ہوئے بارشوں، آندھی، ژالہ باری اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے شمالی اضلاع میں گلیشیائی جھیلیں پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

Provincial Disaster Management Authority (پی ڈی ایم اے) نے صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو فوری حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

کن علاقوں کو سب سے زیادہ خطرہ؟

پی ڈی ایم اے کی جانب سے Chitral، Swat، اپر و لوئر دیر، کوہستان اور Mansehra کے ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی مراسلے ارسال کیے گئے ہیں۔

ادارے کے مطابق شدید گرمی کے باعث گلیشیئرز اور برف تیزی سے پگھل رہی ہے، جبکہ 4 جون سے متوقع بارشیں صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔

پنجاب میں بھی بارشوں اور ژالہ باری کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق 2 جون سے 5 جون کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آندھی اور بارش متوقع ہے۔

بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش اور ژالہ باری کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس سے فصلوں، بجلی کے نظام اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں کے بعد ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) کے واقعات شمالی علاقوں میں اچانک سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

انتظامیہ کو کیا ہدایات دی گئی ہیں؟

Provincial Disaster Management Authority نے ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، بروقت وارننگ سسٹم فعال رکھنے اور مقامی آبادی کو پیشگی آگاہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

اس کے علاوہ Rescue 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مکمل الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عوام کیلئے اہم ہدایات

پی ڈی ایم اے نے سیاحوں، مسافروں اور مقامی آبادی کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

دریاؤں، ندی نالوں اور پہاڑی علاقوں کے قریب رہنے والے افراد کو خصوصی احتیاط برتنے اور کسی بھی ہنگامی اطلاع پر فوری ردعمل دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ماہرین کی رائے

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی اور اچانک بارشوں کا امتزاج فلیش فلڈز کے خطرات میں کئی گنا اضافہ کر دیتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حالیہ موسمی الرٹس کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ گزشتہ چند برسوں میں شمالی علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلاب کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو پیشگی اقدامات کے ساتھ عوامی آگاہی مہم بھی تیز کرنی چاہیے تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔