ٹرمپ اور نیتن یاہو میں تلخ کلامی، امریکی صدر اسرائیلی وزیراعظم پر برس پڑے

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰDonald Trump اور Benjamin Netanyahu کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی نئی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو خاصی تلخ رہی۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے حالیہ اقدامات پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے اور لبنان پر اسرائیلی کارروائیوں کو امریکا کی امن کوششوں کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔

جنگ بندی پر سخت مؤقف

امریکی میڈیا کے مطابق Donald Trump نے گفتگو کے دوران اسرائیلی قیادت پر جنگ بندی کی شرائط کا احترام کرنے کیلئے دباؤ ڈالا۔

وائٹ ہاؤس حکام کے حوالے سے بتایا گیا کہ امریکی صدر لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں عدم استحکام کے امکانات پر سخت تشویش رکھتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کیلئے تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

امریکا اور اسرائیل کے تعلقات میں دراڑ؟

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکا اور اسرائیل قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، تاہم حالیہ واقعات نے دونوں قیادتوں کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات کی نشاندہی کی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، لبنان کی صورتحال اور ایران سے متعلق پالیسیوں پر مختلف زاویہ نظر دونوں حکومتوں کے درمیان تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔

عوامی اور سیاسی ردعمل

یہ رپورٹس سامنے آنے کے بعد عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا واقعی اسرائیل پر جنگ بندی کیلئے دباؤ بڑھا رہا ہے تو یہ خطے میں نئی سفارتی حکمت عملی کا اشارہ ہو سکتا ہے، جبکہ دیگر حلقے اسے معمول کی سفارتی کشیدگی قرار دے رہے ہیں۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں امریکا کا کردار انتہائی اہم ہے اور واشنگٹن خطے میں کسی نئی جنگ یا بڑے فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوئے تو اس کے اثرات خطے کی سیاست اور سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حالیہ رپورٹس اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے میں جاری بحران نے اتحادی ممالک کے درمیان بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ان کے مطابق امریکا ایک جانب اپنے اتحادی اسرائیل کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب خطے کو مزید جنگ کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کی سمت مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے۔