کبوتر راستہ کیوں نہیں بھولتے؟ سائنسدانوں نے حیران کن راز سے پردہ اٹھا دیا

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

صدیوں سے انسان اس بات پر حیران ہوتا رہا ہے کہ کبوتر ہزاروں کلومیٹر دور سے بھی اپنے گھر یا ٹھکانے تک واپس کیسے پہنچ جاتے ہیں۔ اب جرمنی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی ہے اور سائنسدانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔

جرمن ماہرین کے مطابق کبوتروں کی غیر معمولی سمت شناسی کی صلاحیت کا تعلق ممکنہ طور پر ان کے جگر میں موجود مخصوص خلیات سے ہو سکتا ہے، جو زمین کے مقناطیسی میدان کو محسوس کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق میں کیا سامنے آیا؟

University of Bonn اور Max Planck Institute of Animal Behavior کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں ہومنگ کبوتروں (Homing Pigeons) کا تفصیلی جائزہ لیا۔

تحقیق کے مطابق ہومنگ کبوتر، جن کا سائنسی نام Columba livia ہے، طویل فاصلے طے کرنے کے باوجود حیران کن انداز میں اپنے گھروں تک واپس پہنچ جاتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صلاحیت میں جگر کے اندر موجود “سپر پیرا میگنیٹک میکروفیجز” نامی خلیات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

جگر کا کیا کردار ہے؟

تحقیق کے مطابق یہ مخصوص خلیات اپنے اندر لوہا (Iron) جمع کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ زمین کے مقناطیسی میدان کے اثرات کو محسوس کر سکتے ہیں۔

سائنسدانوں نے تجربات کے دوران جب ان خلیات کی تعداد کم کی تو بادلوں اور کم بصری رہنمائی والے ماحول میں کبوتر اپنی سمت کا درست تعین نہ کر سکے۔

تاہم صاف موسم میں وہ سورج اور زمینی نشانات کی مدد سے منزل تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

کبوتر صرف ایک نظام پر انحصار نہیں کرتے

ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کبوتر صرف ایک حس یا نظام پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ بیک وقت کئی قدرتی ذرائع سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

اس سے پہلے سائنسدان کبوتروں کی چونچ، آنکھوں اور دماغ میں موجود مخصوص نظاموں کو سمت شناسی کی بنیادی وجہ قرار دیتے تھے، لیکن اب جگر بھی اس فہرست میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

عوامی دلچسپی کیوں بڑھ گئی؟

یہ تحقیق سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی دلچسپی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بہت سے صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام نظر آنے والا پرندہ اتنی پیچیدہ حیاتیاتی صلاحیتیں رکھتا ہے، جبکہ کچھ افراد نے اسے قدرت کے حیران کن رازوں میں سے ایک قرار دیا۔

ماہرین کی رائے

حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس تحقیق کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے تو مستقبل میں جانوروں کی سمت شناسی، مقناطیسی میدانوں کے اثرات اور حتیٰ کہ جدید نیویگیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی نئی پیش رفت ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت انسانوں کیلئے بھی نئے سائنسی دروازے کھول سکتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق کبوتر ہمیشہ سے انسان کیلئے تجسس کا باعث رہے ہیں، لیکن جدید سائنس اب ان کی حیرت انگیز صلاحیتوں کے پس پردہ رازوں کو سمجھنے کے قریب پہنچ رہی ہے۔

ان کے مطابق یہ تحقیق نہ صرف حیاتیات کے میدان میں اہم پیش رفت ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قدرت کے معمولی نظر آنے والے جانداروں میں بھی غیر معمولی نظام موجود ہوتے ہیں۔