’مجھے ملک سے نکالا کیوں گیا؟‘‘ گلگت جلسے میں نواز شریف کا شکوہ

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

Nawaz Sharif نے گلگت بلتستان میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد، جلاوطنی، قید و بند اور ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی ذکر کیا۔ ان کا خطاب اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب انہوں نے جذباتی انداز میں سوال کیا کہ ’’آخر میرا قصور کیا تھا، مجھے ملک سے باہر کیوں جانا پڑا اور جیلوں میں کیوں ڈالا گیا؟‘‘

’’میں کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا‘‘

گلگت میں خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ وہ کبھی مخالف جماعتوں پر تنقید کرکے ووٹ نہیں مانگتے بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر عوام کے سامنے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام ان کی حکومتوں کے دوران مکمل ہونے والے ترقیاتی منصوبوں، موٹرویز، بجلی کے منصوبوں، لواری ٹنل اور دیگر قومی منصوبوں کو یاد رکھتے ہیں۔

گلگت بلتستان کی ترقی پر زور

Nawaz Sharif نے کہا کہ گلگت بلتستان ان کے دل کے بہت قریب ہے، تاہم موجودہ دورے میں بعض سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کی حالت دیکھ کر انہیں افسوس ہوا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے گلگت سے سکردو تک شاہراہ کی تعمیر، ہائیڈل پاور منصوبوں، اسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کیلئے اربوں روپے خرچ کیے تھے۔

جلاوطنی اور جیل کا ذکر

اپنے خطاب کے دوران نواز شریف نے اپنی سیاسی زندگی کے مشکل ادوار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کئی مرتبہ جیلوں میں ڈالا گیا اور ملک سے باہر بھیجا گیا۔

انہوں نے شرکاء سے مخاطب ہو کر کہا:

“مجھ سے گلہ نہ کرو، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے جلاوطن کیوں ہونے دیا؟”

یہ جملہ جلسے کا سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا حصہ بن گیا۔

مستقبل کے وعدے

سابق وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ اگر مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ موقع ملا تو وہ ہر دو سے تین ماہ بعد گلگت بلتستان کا دورہ کریں گے اور ترقیاتی منصوبوں کی خود نگرانی کریں گے۔

انہوں نے گلگت ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن، خنجراب روڈ کی بہتری، الیکٹرک بسوں، آسان قرضوں، طلبہ کیلئے اسکالرشپس اور لیپ ٹاپ پروگرام کی بحالی کا بھی عندیہ دیا۔

سیاسی و عوامی ردعمل

سیاسی مبصرین کے مطابق نواز شریف کے خطاب میں ایک طرف ترقیاتی منصوبوں کا ذکر تھا تو دوسری جانب ذاتی سیاسی جدوجہد کا پہلو بھی نمایاں رہا۔

سوشل میڈیا پر ان کے جلاوطنی اور جیل سے متعلق بیانات پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ حامیوں نے اسے ایک سیاسی کارکن کی جدوجہد قرار دیا جبکہ ناقدین نے ان کے دورِ حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔

ماہرین کی رائے

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات کے تناظر میں مسلم لیگ (ن) اپنی روایتی حکمت عملی کے تحت ترقیاتی منصوبوں اور کارکردگی کے بیانیے کو دوبارہ اجاگر کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں نواز شریف کا خطاب اسی سیاسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق نواز شریف نے اپنے خطاب میں سیاسی مظلومیت اور ترقیاتی سیاست، دونوں بیانیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق ’’مجھے جلاوطن کیوں ہونے دیا؟‘‘ جیسا سوال دراصل اپنے حامی ووٹرز کے جذبات کو متحرک کرنے کی ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کا ذکر مستقبل کی انتخابی مہم کا بنیادی نکتہ بن سکتا ہے۔