لاہور:امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں، اسی تناظر میں امریکی صدر اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس دوران وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق یہ ایک نہایت حساس نوعیت کی سفارتی بات چیت تھی۔ کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاملے پر میڈیا کے ذریعے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔
دوسری جانب عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر نے مذاکراتی عمل کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بیان دے چکے ہیں کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور جلد کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
تاہم ٹرمپ کے اس دعوے کے بعد ایرانی حکام نے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی خبروں کی تردید کر دی تھی۔
مزید برآں، عالمی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو میزبان شہر کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس تنازع میں پاکستان کی سفارتی حیثیت اور اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ تہران حکومت کی جانب سے اب تک مذاکرات یا سپریم لیڈر کی حمایت سے متعلق کسی بھی خبر کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
21