امریکی ناکہ بندی کے باوجود 20سے زائد جہاز آبنائے ہرمزسے گزرنے میں کامیاب

واشنگٹن: ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور مکمل کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سینٹ کام نے کہا تھا کہ بندش کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے دوران 6 بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا، جبکہ اس دوران کوئی بھی ایرانی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکا۔
سینٹ کام کے مطابق آبنائے ہرمز کی نگرانی کے لیے 10 ہزار سے زائد ملاح، میرینز اور فضائی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو اس اہم بحری گزرگاہ پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں خاص طور پر ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے اور جانے والے جہازوں پر لاگو کی جا رہی ہیں۔
فوجی حکام نے مزید بتایا کہ ایران کے علاوہ خلیج کی دیگر تمام بندرگاہیں بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہیں، تاہم ایران سے متعلق نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان متضاد دعوؤں نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے عالمی تجارتی راستوں، تیل کی ترسیل اور خطے کی سلامتی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔