وینزویلا اور ایران کے بعد کس ملک کا نمبر ہو گا؟امریکہ نے بتا دیا

وینزویلا اور اس کے بعد ایران میں عسکری کارروائیوں کے تناظر میں اقتدار کی تبدیلی کی حکمتِ عملی اختیار کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ممکنہ اگلے ہدف سے متعلق بھی قیاس آرائیاں سامنے آ گئی ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے ری پبلکن جماعت کے سینیٹر لینڈسے گراہم نے حالیہ تنازعات کے پس منظر میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے مقاصد نہایت واضح اور دوٹوک ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاطینی امریکا کے بارے میں بھی سخت مؤقف اپنانے پر غور کر رہے ہیں اور ان کی توجہ کا اگلا مرکز کیوبا ہو سکتا ہے۔
امریکی سینیٹر کا مزید کہنا تھا کہ اشتراکی طرزِ حکومت رکھنے والے ممالک کا وقت محدود ہو چکا ہے اور امریکا اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن راستہ اختیار کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
کیوبا سن 1959 کے انقلاب کے بعد سے ایک اشتراکی ریاست کے طور پر قائم ہے۔ امریکا اور کیوبا کے تعلقات سرد جنگ کے زمانے ہی سے تناؤ اور بداعتمادی کا شکار رہے ہیں۔امریکا طویل عرصے سے کیوبا کی اشتراکی حکومت پر انسانی حقوق کی پامالی اور سیاسی آزادیوں پر پابندیاں عائد کرنے کے الزامات لگاتا آیا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان سن 2015 میں تعلقات کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے گئے، تاہم بعد میں دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دی گئیں اور کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔
فلوریڈا سمیت چند دیگر ریاستوں میں کیوبا سے تعلق رکھنے والے امریکی ووٹروں کی قابلِ ذکر تعداد آباد ہے، جو عموماً کیوبا کی موجودہ حکومت کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سخت مؤقف اختیار کرنا بعض اوقات اندرونی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیوبا کے خلاف کسی براہِ راست عسکری کارروائی یا باقاعدہ منصوبے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات عموماً سیاسی دباؤ بڑھانے یا واضح پیغام دینے کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔
دوسری طرف لاطینی امریکا کے ممالک اور بعض یورپی حلقوں نے خطے میں مزید تناؤ پیدا کرنے سے اجتناب برتنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں بھی یکطرفہ اقدامات کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔