جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کی نیتن یاہو پر سخت تنقید

اسرائیل کی اپوزیشن نے وزیرِ اعظم کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں سیاسی طور پر ناکام قرار دیا ہے، جس کے بعد ملک میں داخلی سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپیڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سیاسی اور حکمت عملی کے میدان میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی تاریخ میں اس نوعیت کی سیاسی ناکامی پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
یائر لاپیڈ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی جیسے اہم معاملات پر کیے گئے فیصلوں میں اسرائیل کو شامل نہ کرنا ایک نہایت تشویشناک امر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے اپنی تمام ذمہ داریاں مؤثر انداز میں پوری کیں اور عوام نے بھی غیر معمولی صبر اور حوصلے کا مظاہرہ کیا، تاہم حکومت ان توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔
اپوزیشن لیڈر کے مطابق وزیرِ اعظم نیتن یاہو نہ صرف سیاسی بلکہ اسٹریٹجک سطح پر بھی ناکام رہے اور وہ اپنے کسی بھی اہم ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حکومتی پالیسیوں میں غرور، غفلت اور مؤثر منصوبہ بندی کے فقدان نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔
یائر لاپیڈ نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال کے نتیجے میں اسرائیل کو ہونے والے سیاسی اور اسٹریٹجک نقصانات کے ازالے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اور ان کے اس بیان کے بعد ملکی سیاست میں نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے جبکہ حکومت پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔