تہران (انٹرنیشنل ڈیسک – غلام مرتضیٰ) ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاہم بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ہر ممکن اقدام کے لیے تیار بھی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد باقر قالیباف نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کو اپنے مخالفین پر اعتماد نہیں ہے اور کسی بھی وقت صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم دشمن پر بھروسہ نہیں کرتے، جنگ کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق قالیباف نے واضح کیا کہ ایران ایک طرف سفارتی عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب ہر قسم کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں مذاکرات اہم ہیں، لیکن قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا بھی ناگزیر ہے۔ ان کے بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی یہ پالیسی ’مذاکرات بھی، تیاری بھی‘ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تہران سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، مگر ساتھ ہی کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے خود کو تیار بھی کر رہا ہے۔
قالیباف کا یہ دو ٹوک بیان ایران کی موجودہ پالیسی کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ تہران ایک طرف امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف جنگ کی تیاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ ’مذاکرات بھی، تیاری بھی‘ کی پالیسی ایران کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔
اس بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ابھی مکمل طور پر اعتماد نہیں کر رہا اور کسی بھی لمحے صورتحال بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اس وقت اہم ہیں، مگر دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی کمی اب بھی بڑی رکاوٹ ہے۔
آپ کو ایران کا یہ دو ٹوک بیان کیسا لگا؟ کیا یہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا یا تناؤ بڑھائے گا؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!