ایران نے مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پاکستان نہ آنے کا اعلان کر دیا

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ اس وقت ایران کا امریکا کے ساتھ کسی نئے مذاکراتی مرحلے میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں۔

ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال میں تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے حوالے سے کوئی پیش رفت زیرِ غور نہیں ہے۔

اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا نے اپنے طرزِ عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے بارے میں ایران نے ثالثی کردار ادا کرنے والے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث فوری طور پر مذاکرات کی بحالی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی، بحری ناکہ بندی اور جوہری پروگرام جیسے مسائل نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مزید یہ کہ خطے میں جاری تنازعات اور باہمی اعتماد کی کمی نے دونوں ممالک کے تعلقات میں فاصلہ بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو قریب مستقبل میں مذاکرات کی بحالی مشکل ہو جائے گی۔

ان کے مطابق اس صورتحال کے باعث خطے میں امن کے امکانات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔