لاہور میں ماں اور بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی خبر مکمل طور پر جعلی ہے،عظمیٰ بخاری

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور کے داتا دربار کے قریب بھاٹی گیٹ پرندہ مارکیٹ کے علاقے میں ایک خاتون سعدیہ اور ان کی تین ماہ کی بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے اور ڈوبنے کی خبر مکمل طور پر جعلی ثابت ہو گئی ہے۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں اسے صریحاً جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریسکیو ۱۱۲۲ کے جوانوں نے ایک بار پھر اپنی مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو کی خصوصی ٹیمیں اور غوطہ خور چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ مکمل تلاشی اور جانچ پڑتال کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی تھی، اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔ ریسکیو حکام نے تصدیق کی کہ نہ تو وہاں کوئی حادثہ پیش آیا اور نہ ہی کوئی شخص گرا۔

دوسری جانب لاہور کی مقامی انتظامیہ نے بھی سیوریج لائن کا تفصیلی معائنہ کیا۔ کافی تگ و دو اور جانچ کے بعد انتظامیہ نے بھی یہی رائے دی کہ واقعہ ہوا ہی نہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریسکیو ۱۱۲۲ اور انتظامیہ کی بروقت کارروائی قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ایسی افواہوں اور جعلی خبروں پر یقین کرنے سے گریز کریں اور تصدیق شدہ ذرائع سے معلومات حاصل کریں تاکہ غیر ضروری خوف اور انتشار پھیلنے سے بچا جا سکے۔

 سوشل میڈیا اور انفارمیشن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی جعلی خبروں کا مقصد عموماً عوامی جذبات کو ابھارنا اور انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا ہوتا ہے۔ اس طرح کی افواہیں تیزی سے پھیلتی ہیں اور ریسکیو اداروں کے وسائل کو غیر ضروری طور پر استعمال کرواتی ہیں۔ ماہرین نے تجویز دی ہے کہ سرکاری سطح پر جعلی خبروں کے خلاف سخت قوانین اور سوشل میڈیا پر فوری فیکٹ چیک سسٹم کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر سوشل میڈیا کی تیزی اور اس کے منفی استعمال کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایک جعلی خبر چند گھنٹوں میں پورے شہر اور ملک میں پھیل جاتی ہے، ریسکیو ٹیمیں متحرک ہوتی ہیں، انتظامیہ الرٹ ہو جاتی ہے اور عوام میں خوف پھیلتا ہے – مگر آخر میں سب کچھ جھوٹ نکلتا ہے۔

ریسکیو ۱۱۲۲ اور مقامی انتظامیہ کی بروقت اور پیشہ ورانہ کارروائی قابلِ تعریف ہے۔ انہوں نے نہ صرف فوری رسپانس دیا بلکہ مکمل تلاشی کے بعد حقیقت سامنے لائی۔ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا واضح بیان بھی اہم ہے کیونکہ اس سے افواہوں کا دائرہ توڑا جا سکتا ہے۔

یہ وقت ہے کہ سوشل میڈیا صارفین بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کر لیں۔ ورنہ ایسی جعلی خبروں سے نہ صرف وسائل ضائع ہوتے ہیں بلکہ اصل ایمرجنسی میں مدد پہنچانے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

آپ کو لگتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کے خلاف کیا سخت اقدامات کیے جائیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں!