لاہور(خصوصی رپورٹ :محسن شہزاد مغل)پنجاب حکومت نے نجی ہاؤسنگ شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے حالیہ برسوں کا سب سے جامع ریگولیٹری فریم ورک نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب کابینہ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی امور نے پنجاب پرائیویٹ ہاؤسنگ اسکیمز قواعد 2022 میں وسیع ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جن کا مقصد منصوبہ بندی کے نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور جواب دہ بنانا ہے۔
محکمہ لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ کی جانب سے ان ترامیم کو باقاعدہ نوٹیفائی کر دیا گیا ہے، اور یہ سرکاری گزٹ میں اشاعت کے بعد فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ حکام کے مطابق ان اصلاحات کے ذریعے ہاؤسنگ سیکٹر میں بڑھتی ہوئی بے قاعدگیوں پر قابو پانے اور ترقیاتی عمل کو ایک منظم اور معیاری ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت تمام منظوریوں کا پورا نظام ڈیجیٹل کر دیا جائے گا، جس سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ انسانی مداخلت بھی کم ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ غیر مجاز منصوبہ بندی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
ترامیم میں یہ بھی لازمی قرار دیا گیا ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبوں میں زیر زمین یوٹیلیٹی سروسز کو شامل کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ اس اقدام کا مقصد جدید شہری سہولتوں کے معیار کو بہتر بنانا اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
مزید برآں خریداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ کم لاگت رہائش کے فروغ کو بھی ان اصلاحات کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے عام شہریوں کے لیے رہائشی سہولیات تک رسائی آسان ہو گی۔
نئے ضوابط کے مطابق جو ہاؤسنگ اسکیمیں بغیر منظوری قائم کی جائیں گی یا مقررہ مدت میں ترقیاتی کام مکمل نہیں کریں گی، ان پر یومیہ پانچ ہزار روپے سے بیس ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ یہ سخت مالی سزائیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہیں کہ ترقیاتی ادارے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی کریں۔
حکام کے مطابق ان اصلاحات کے ذریعے غیر منظم ترقیاتی منصوبوں، کمزور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، ترقیاتی کاموں میں تاخیر، ملکیتی تنازعات، عوامی سہولتوں کی کمی اور مؤثر نگرانی کے فقدان جیسے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی راہ ہموار کی گئی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نجی ہاؤسنگ شعبے کو ایک مضبوط، شفاف اور پائیدار نظام کے تحت لانے میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔
پنجاب حکومت نے نجی ہاؤسنگ شعبے سے متعلق قواعد میں مزید اہم ترامیم منظور کرتے ہوئے انہیں پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کر دیا ہے۔ ان ترامیم کے تحت پرانے قانونی حوالہ جات کی جگہ ایک نیا قانونی ڈھانچہ اور واضح ریگولیٹری بنیاد متعارف کرائی گئی ہے تاکہ نظام کو زیادہ مربوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔
اصلاحات کی سب سے نمایاں تبدیلی منظوری کے پورے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ نئے قواعد کے مطابق اب کسی بھی نئی ہاؤسنگ اسکیم یا پہلے سے منظور شدہ منصوبوں میں تبدیلی کی درخواست صرف مرکزی ڈیجیٹل منظوری کے نظام کے ذریعے جمع کرائی جا سکے گی، جس سے شفافیت اور نگرانی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
حکومت نے ملکیت اور اسپانسرشپ کے حوالے سے بھی سخت شرائط عائد کر دی ہیں۔ نئی ہدایت کے مطابق اگر کسی ہاؤسنگ اسکیم میں پانچ سے زیادہ مالکانِ اراضی شامل ہوں تو ایسی صورت میں اس منصوبے کو لازماً رجسٹرڈ کمپنی یا کوآپریٹو سوسائٹی کے ذریعے درخواست دینی ہوگی۔ مزید یہ کہ منظور شدہ اسکیموں میں بعد ازاں مالکان کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا جا سکے گا۔
جوائنٹ وینچر منصوبوں کے لیے بھی سخت حد مقرر کر دی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی ایسے منصوبے میں شراکت دار اداروں کی تعداد پانچ سے زیادہ نہیں ہو سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کوآپریٹو سوسائٹیوں کو جوائنٹ وینچر معاہدوں میں شامل ہونے کی اجازت بھی نہیں دی جائے گی۔
منصوبہ بندی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اسپانسرز کو لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ تسلیم شدہ نظام کے مطابق جیو ریفرنسڈ ڈیجیٹل لے آؤٹ پلان جمع کرائیں۔ اس کے علاوہ مقامی حکام کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ منظوری کے مرحلے کے دوران اضافی معلومات طلب کر سکیں تاکہ جانچ پڑتال مزید مؤثر ہو سکے۔
نئے قواعد میں ہاؤسنگ منصوبوں کو چار مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں ایک سو کنال سے کم رقبے کی اسکیمیں، کم از کم ایک سو کنال پر مشتمل فارم ہاؤسنگ اسکیمیں، کم از کم پچیس کنال رقبے پر مبنی اپارٹمنٹ ہاؤسنگ اسکیمیں، اور کم لاگت ہاؤسنگ اسکیمیں شامل ہیں۔
گمراہ کن تشہیر کو روکنے کے لیے یہ بھی لازم قرار دیا گیا ہے کہ کم لاگت رہائشی منصوبوں کے ناموں کے ساتھ واضح الفاظ جیسے ’’کم قیمت‘‘، ’’بجٹ‘‘ یا ’’قابل برداشت‘‘ استعمال کیے جائیں تاکہ خریداروں کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔
کمیٹی نے زمین کے استعمال اور شہری سہولتوں کے معیار میں بھی اہم تبدیلیاں منظور کی ہیں۔ ہر ہاؤسنگ اسکیم کے لیے پارکس، کھیل کے میدان، اسپورٹس سہولتیں، قبرستان، عوامی عمارتیں، سڑکیں، سروس ایریاز اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے مخصوص رقبہ مختص کرنا لازمی ہوگا۔
روایتی اور فارم ہاؤسنگ اسکیموں میں کھلی جگہوں اور تفریحی سہولتوں کے لیے مجموعی رقبے کا پانچ سے سات فیصد حصہ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اپارٹمنٹ منصوبوں میں یہ حد کم از کم دس فیصد رکھی گئی ہے۔ اسی طرح تمام اقسام کی اسکیموں میں قبرستان کے لیے کم از کم دو فیصد رقبہ لازمی ہوگا۔
تجارتی سرگرمیوں کے لیے زمین کے استعمال کو بھی منظم کرتے ہوئے اس کا تناسب منصوبے کے حجم اور نوعیت کے مطابق پانچ سے دس فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ عوامی عمارتوں کے لیے دو سے تین فیصد رقبہ مختص کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سروس ایریاز، سوسائٹی دفاتر، گندے پانی کی صفائی اور یوٹیلیٹی سروسز کے لیے بھی خصوصی انتظامات کو لازمی شرائط کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت نے نجی ہاؤسنگ شعبے سے متعلق قواعد میں مزید جامع اور سخت ترامیم منظور کرتے ہوئے منصوبہ بندی، تعمیرات اور سہولیات کے تمام مراحل کو نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت منظم کر دیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق رہائشی پلاٹوں کا زیادہ سے زیادہ حجم پانچ مرلے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ کمرشل علاقوں کے سامنے پارکنگ اسٹرپس فراہم کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کے دباؤ اور غیر منظم پارکنگ کے مسائل کو روکا جا سکے۔
سڑکوں تک رسائی اور رابطہ نظام کے حوالے سے بھی سخت شرائط نافذ کی گئی ہیں۔ اگر کسی رسائی سڑک کی چوڑائی ریونیو ریکارڈ کے مطابق بیس سے چالیس فٹ کے درمیان ہو تو ڈویلپرز کے لیے مستقبل میں توسیع کی خاطر لازمی سیٹ بیک دینا ضروری ہوگا۔ اس کے علاوہ اضافی درکار زمین بغیر کسی معاوضے کے متعلقہ مقامی حکومت کے حوالے کرنا ہوگی تاکہ سڑک کی مؤثر چوڑائی کم از کم چالیس فٹ تک بڑھائی جا سکے۔
نظرثانی شدہ قواعد میں بنیادی شہری سہولیات کے ڈیزائن اور تکنیکی منظوری کے حوالے سے بھی واضح پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ پانی کی فراہمی، سیوریج، نکاسی آب، بجلی، اسٹریٹ لائٹنگ، ٹیلی کمیونیکیشن، انٹرنیٹ، سڑکوں اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق تمام ڈیزائن اور تکنیکی تفصیلات متعلقہ اداروں سے منظوری کے بغیر قابل عمل نہیں ہوں گی۔
ڈویلپرز کے لیے زیر زمین یوٹیلیٹی کوریڈورز قائم کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ جن علاقوں میں سرکاری سیوریج نظام موجود نہیں ہوگا وہاں ہر پلاٹ کے لیے سیپٹک ٹینک فراہم کرنا بھی ضروری ہوگا۔ ایک اہم اصلاح کے تحت تمام یوٹیلیٹی سروسز کو مکمل طور پر زیر زمین منتقل کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق پانی، سیوریج، گیس، بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ کی تمام لائنیں سڑکوں کی تعمیر سے پہلے زیر زمین بچھانا ہوں گی، جبکہ اوورہیڈ تاروں، کیبلز اور پائپ لائنوں کی تنصیب پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
واسا اور مقامی حکومتوں کے کردار کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ڈویلپرز پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ ویسٹ واٹر ڈسپوزل، اخراجی مقامات، ڈسپوزل روٹس، ٹریٹمنٹ پلانٹس، بارش کے پانی کے ذخائر، اوورہیڈ واٹر ریزروائرز اور ٹرنک سیوریج چارجز کی ادائیگی سے متعلق تمام این او سیز حاصل کریں۔ اگر واسا یا مقامی ادارے ڈپازٹ کی بنیاد پر انفراسٹرکچر تیار کریں تو ڈویلپرز کو اسکیم کی منظوری کے ایک سال کے اندر مقررہ لاگت ہر صورت جمع کرانا ہوگی۔
ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے بھی نئی شرائط سخت کر دی گئی ہیں۔ وہ منصوبے جنہیں ماسٹر پلان یا لینڈ یوز پلان کی منظوری کے وقت ماحولیاتی کلیئرنس مل چکی ہو، انہیں ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی تمام شرائط اور بہتری کے اقدامات پر مکمل عملدرآمد کرنا ہوگا۔ دیگر تمام منصوبوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ منظوری کے چھ ماہ کے اندر ماحولیاتی تحفظ ایجنسی سے این او سی حاصل کریں، بصورت دیگر تاخیر کی صورت میں جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
خریداروں اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے منظور شدہ لے آؤٹ پلانز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اگر پلاٹوں کی فروخت یا ترقیاتی کام کے بعد زمین سے متعلق کوئی تنازع سامنے آتا ہے تو منظور شدہ منصوبہ بندی میں ردوبدل نہیں کیا جا سکے گا، اور ایسے معاملات بورڈ آف ریونیو کی پالیسیوں کے مطابق حل کیے جائیں گے۔
غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیموں کی روک تھام کے لیے نفاذ کا نظام مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ بغیر منظوری قائم کی جانے والی یا مقررہ مدت میں ترقیاتی کام مکمل نہ کرنے والی اسکیموں پر یومیہ جرمانے عائد ہوں گے، جن کی شرح منصوبے کے حجم کے مطابق مقرر کی گئی ہے۔ تین سو کنال تک کے منصوبوں پر پانچ ہزار روپے یومیہ، تین سو سے پانچ سو کنال تک دس ہزار روپے، پانچ سو سے ایک ہزار کنال تک پندرہ ہزار روپے، جبکہ ایک ہزار کنال سے زائد رقبے کے منصوبوں پر بیس ہزار روپے یومیہ جرمانہ نافذ ہوگا۔
پنجاب حکومت نے ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے جائیداد خریداروں اور الاٹیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نیا سخت اور منظم نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے تحت بورڈ آف ریونیو کا ہاؤسنگ سوسائٹی مینجمنٹ سسٹم ایک لازمی پلیٹ فارم قرار دے دیا گیا ہے، جہاں تمام ریکارڈ، الاٹمنٹ، نوٹسز، منسوخی کے معاملات اور ملکیتی دستاویزات محفوظ اور منظم انداز میں درج کیے جائیں گے۔
نئے قواعد کے مطابق کسی بھی الاٹمنٹ کو منسوخ کرنے سے پہلے کم از کم پندرہ روز کا نوٹس دینا لازمی ہوگا، جو بیک وقت ڈیجیٹل نظام اور رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔ اسی طرح اقساط کی عدم ادائیگی کی صورت میں بھی منسوخی سے قبل متعلقہ خریدار کو دو مرتبہ ادائیگی کا موقع دینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مکمل ادائیگی کے بعد خریدار یا الاٹی کو ملکیتی سرٹیفکیٹ ہاؤسنگ سوسائٹی مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے جاری کیا جائے گا، تاکہ عمل مکمل طور پر شفاف اور محفوظ رہے۔
پرانے ہاؤسنگ منصوبوں سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کے لیے بھی خصوصی انتظامات شامل کیے گئے ہیں۔ 2005 کے قواعد سے قبل منظور شدہ اسکیموں میں اگر عوامی عمارتوں کے لیے مختص اراضی اب تک منتقل نہیں ہوئی تو اسے مقررہ ضوابط کے تحت متعلقہ مقامی حکومت کے حوالے کرنا ہوگا۔ اسی طرح جن اسکیموں میں مارگیج ڈیڈز مکمل نہیں کی گئیں، وہاں باقی ترقیاتی ذمہ داریوں کے تناسب سے نئی مارگیج ڈیڈز کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ قانونی پیچیدگیاں ختم کی جا سکیں۔
ترقیاتی کام مکمل ہونے کے بعد ہاؤسنگ اسکیموں کے انتظامی ڈھانچے میں بھی بڑی تبدیلی متعارف کرائی گئی ہے۔ نئے گورننس ماڈل کے تحت انتظامی اور دیکھ بھال کی ذمہ داریاں ڈویلپرز سے لے کر سات رکنی مینجمنٹ کمیٹیوں کو منتقل ہوں گی۔ ان کمیٹیوں میں تین نمائندے اسپانسرز کے جبکہ چار ارکان مقامی کمیونٹی سے لیے جائیں گے، جن میں ترجیحاً انجینئرز، ڈاکٹرز، وکلا، مالیاتی ماہرین، ٹاؤن پلانرز، اساتذہ یا ریٹائرڈ سرکاری افسران شامل ہوں گے۔
یہ کمیٹیاں سڑکوں، پارکس، قبرستانوں، پانی کی فراہمی، سیوریج، نکاسی آب، ویسٹ مینجمنٹ، اسٹریٹ لائٹنگ، سکیورٹی اور دیگر مشترکہ سہولتوں کی نگرانی کی ذمہ دار ہوں گی۔ انہیں مینٹیننس چارجز وصول کرنے، بینک اکاؤنٹس چلانے اور سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی رپورٹس مقامی حکومت کو جمع کرانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا، تاہم عوامی مفاد کے تحت حکومت کو کسی بھی وقت انتظامی امور اپنے کنٹرول میں لینے کا حتمی اختیار برقرار رہے گا۔
ترامیم میں جنرل پاور آف اٹارنی کی بنیاد پر منظور شدہ پرانی ہاؤسنگ اسکیموں کی منسوخی کے لیے بھی واضح قانونی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہاؤسنگ اسکیموں کے انضمام اور حصول کے لیے ایک باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت نئے اسپانسرز قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انتظامی، مالیاتی اور ترقیاتی ذمہ داریاں سنبھال سکیں گے۔
مزید یہ کہ منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کے مجموعی رقبے کے دس فیصد تک جزوی نظرثانی کی اجازت بھی دی گئی ہے، تاہم اس کے لیے تکنیکی جانچ، عوامی مشاورت، مقررہ فیسوں کی ادائیگی، مارگیج ایڈجسٹمنٹ اور منصوبہ بندی کے معیار پر مکمل عملدرآمد لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ حتمی منظوری متعلقہ اتھارٹی سے حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
حکام کے مطابق یہ اصلاحات پنجاب کے ہاؤسنگ ریگولیٹری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، شہری منصوبہ بندی کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، سستی رہائش کی فراہمی، ماحولیاتی ضوابط کی پابندی اور جائیداد خریداروں کے حقوق کے مؤثر تحفظ کی سمت ایک اہم پیش رفت ہیں۔ گزیٹ نوٹیفکیشن کے بعد ان ترامیم کے صوبے بھر میں ڈویلپرز، سرمایہ کاروں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں، مقامی حکومتوں اور لاکھوں ممکنہ گھر خریداروں پر دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔