سابق وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت تیس جون تک پٹرولیم مصنوعات سے تقریباً سترہ سو ارب روپے وصول کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے تیل کی کمپنیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے پٹرول پر فی لیٹر بیس روپے محصول میں اضافہ کر کے تیل کی کمپنیوں کو فی لیٹر پینتیس روپے تک اضافی منافع فراہم کیا ہے۔
ان کے مطابق اسی طرح ڈیزل پر فی لیٹر بیس روپے محصول میں کمی کر کے کمپنیوں کو فی لیٹر ستر روپے تک اضافی منافع کا موقع دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتِ حال کا مطلب یہ ہے کہ صارفین اور حکومتی وسائل کی قیمت پر تیل کی کمپنیوں کو غیر معمولی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اس وقت تیل کی کمپنیاں جو پٹرول اور ڈیزل فروخت کر رہی ہیں وہ دراصل اٹھائیس فروری سے پہلے کم قیمت پر درآمد کیا گیا تھا۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یکم مارچ سے پندرہ مارچ تک کے لیے جو قیمتیں پہلے طے کی گئی تھیں ان میں اخراجات اور منافع پہلے ہی شامل تھا۔
ان کے مطابق موجودہ حالات میں قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے اور کمپنیوں کو اضافی منافع دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
سابق وزیرِ خزانہ نے کہا کہ درحقیقت یہ صورتحال بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تیل کی کمپنیوں کو غیر ضروری طور پر زیادہ منافع فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے اس اقدام کو اس مثال سے تشبیہ دی کہ جیسے حکومت نے شوگر ملوں کو چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے نتیجے میں شوگر مل مالکان کو فائدہ ہوا جبکہ عام عوام کو نقصان برداشت کرنا پڑا۔