کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن میں ایک دکان سے ملنے والے ’شیطانی شکل‘ کے مجسمے سے متعلق پھیلا ہوا معمہ بالآخر حل ہو گیا۔
سماجی رابطے کی ویب گاہوں پر اس مجسمے کی ویڈیو تیزی سے پھیلنے کے بعد کورنگی صنعتی علاقے کی پولیس حرکت میں آئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے مجسمے کو اپنی تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔
پولیس جب دکان پر پہنچی تو اس وقت دکاندار وہاں موجود نہیں تھا، تاہم کچھ دیر بعد مجسمہ تیار کرنے والے کاریگر کو حراست میں لے لیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق یہ مجسمہ تھرمو پول سے تیار کیا گیا تھا اور ایک مذہبی عالم کی ہدایت پر دکاندار کو اسے بنانے کا کام دیا گیا تھا، جو یومِ القدس کے موقع پر استعمال کیا جانا تھا۔
پولیس کے مطابق دکاندار عمران نے بیان دیا کہ مذکورہ مذہبی عالم نے اسے ہدایت کی تھی کہ جمعہ کے روز اس مجسمے کو جلوس میں احتجاج کے طور پر نذرِ آتش کیا جائے گا۔
پولیس نے مجسمہ ساز کا وضاحتی بیان قلم بند کرنے کے بعد مزید کارروائی کی ضرورت نہ سمجھتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے دی۔
12