“سائیکو کیوں کہا؟” میرا لائیو انٹرویو میں بھڑک اٹھیں

خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ Meera ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اس وقت برہم ہوگئیں جب میزبان نے ان کی نئی فلم “سائیکو” کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے انہیں ذاتی طور پر بھی “سائیکو” قرار دینے کی کوشش کی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میزبان نے فلم کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ “آپ پہلے بھی سائیکو تھیں، فلم میں بھی یہی کردار ادا کیا اور اب تک اس سے باہر نہیں نکل سکیں۔”

یہ جملہ سنتے ہی میرا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے میزبان کو ٹوک دیا اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

“فنکاروں کو عزت دیں”

اداکارہ میرا کا کہنا تھا کہ پاکستانی فنکاروں کو اپنے ہی ملک میں وہ عزت نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔

انہوں نے کہا:
“اگر آپ لوگ ہمیں اپنے ملک میں عزت نہیں دیں گے تو یاد رکھیں ہمیں انڈیا میں بہت عزت ملتی ہے۔”

ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

فلم کے کردار کا دفاع

میرا نے واضح کیا کہ فلم “سائیکو” میں انہوں نے ایک نہایت مشکل اور چیلنجنگ کردار ادا کیا ہے جس کیلئے بھرپور محنت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید تھی کہ شائقین اور ناقدین ان کی اداکاری اور فلم کے ہدایت کار Shaan Shahid کی کاوشوں کو سراہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فلم کا موضوع محض تفریح نہیں بلکہ ذہنی صحت اور ڈپریشن جیسے اہم سماجی مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین دو مختلف گروپوں میں تقسیم نظر آئے۔

کچھ صارفین نے میرا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے، جبکہ بعض افراد نے میزبان کے سوال کو محض مزاحیہ انداز قرار دیا۔

فلم “سائیکو” کی خاص بات

عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی فلم “سائیکو” میں Shaan Shahid، Meera، Sonia Hussyn اور Shabbir Jan سمیت کئی نامور فنکار شامل ہیں۔

فلم کو ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کے موضوعات کے گرد گھمایا گیا ہے۔

شوبز ماہرین کی رائے

تفریحی صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ فنکاروں پر تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن ذاتی نوعیت کے ریمارکس سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق سنجیدہ موضوعات پر بننے والی فلموں کے بارے میں گفتگو کرتے وقت احتیاط ضروری ہوتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق میرا کا ردعمل صرف ایک جملے پر ناراضی نہیں بلکہ پاکستانی فنکاروں کی جانب سے برسوں سے محسوس کیے جانے والے رویوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

ان کے مطابق اختلاف رائے اور تنقید میڈیا کا حق ہے، لیکن فنکاروں کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور ذاتی شخصیت میں فرق برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔