خصوصی رپورٹ: سینئر صحافی غلام مرتضیٰ
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری و سفارتی معاہدے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے درمیان ایران نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا۔ تہران کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں لیکن فیصلہ کن مرحلہ تاحال باقی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں معاہدہ طے پانے کے حوالے سے جو دعوے کیے جا رہے ہیں وہ قبل از وقت اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ ایران نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابھی کسی حتمی سمجھوتے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔
امریکا بار بار مؤقف بدلتا رہا، ایران کا دعویٰ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے مسودے کا بڑا حصہ تقریباً مکمل ہو چکا تھا اور کئی اہم نکات پر پیش رفت بھی ہوئی، تاہم امریکی مؤقف میں بار بار تبدیلیوں کے باعث مذاکرات متاثر ہوئے۔
ترجمان کے مطابق ایران مسلسل سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے لیکن مذاکرات کی کامیابی کے لیے دونوں فریقوں کا یکساں سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔
پاکستان اور قطر اہم کردار میں
ایران نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور قطر اس وقت ثالثی کے عمل میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق دونوں ممالک فریقین کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل رابطوں میں مصروف ہیں۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان اور قطر کی کوششیں اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی زیر بحث
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی اقدامات نے صرف مذاکراتی عمل کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ آبنائے ہرمز کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو بھی مزید حساس بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر
عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے مختلف ممالک اور بین الاقوامی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی حل کی حمایت کر رہے ہیں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر ایرانی بیان کے بعد مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تاخیر خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا سکتی ہے جبکہ کچھ حلقے ثالثی کی کوششوں کو مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کی رائے
عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار اعتماد سازی پر ہوتا ہے۔ اگر فریقین ایک دوسرے کے مؤقف پر اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہو گئے تو معاہدے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ مرحلے پر مذاکرات کا جاری رہنا خود ایک مثبت اشارہ ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ پس پردہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان اور قطر کا ثالثی کردار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک کسی نئی کشیدگی یا تصادم سے بچنا چاہتے ہیں۔ اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کریں تو آئندہ چند ہفتے مذاکرات کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہیں۔
- مغربی بنگال انتخابات پر دھاندلی کے سنگین الزامات، بی جے پی کی جیت متنازع بن گئی
- بھارتی جج کے ریمارکس پر نوجوانوں کا طنزیہ ردعمل، “کاکروچ جنتا پارٹی” سوشل میڈیا پر وائرل
- افسوسنا ک واقعہ، سکول بس کھائی میں جا گری، 17 طلبا ہلاک، 20 زخمی
- بھارت کابل میں سفارتخانہ بحال کرنے کا فیصلہ، طالبان وزیر خارجہ کے تاریخی دورے کے موقع پر اعلان