ای چالان کے جرمانے معطل کئے جائیں، عدالت کا بڑا فیصلہ

کراچی میں ای چالان کے بھاری جرمانوں کے خلاف ایک اور شہری نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

درخواست گزار جوہر عباس نے راشد رضوی ایڈووکیٹ کے توسط سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر عائد کیے گئے جرمانے نہ صرف بہت زیادہ ہیں بلکہ غیر منصفانہ بھی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے جولائی 2025 میں کم سے کم تنخواہ 40 ہزار روپے مقرر کی، جو روزمرہ کے راشن، یوٹیلیٹی بلز، بچوں کی تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ فریقین کو ہدایت دی جائے کہ وہ عدالت کو جرمانوں کے منصفانہ ہونے پر مطمئن کریں اور ان جرمانوں کے نفاذ کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

مزید کہا گیا کہ کراچی کا انفرااسٹرکچر شدید خراب ہے اور شہریوں کو بنیادی سہولیات میسر نہیں، لیکن ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ لاہور میں چالان کا جرمانہ 200 روپے ہے جبکہ کراچی میں یہ 5 ہزار روپے ہے، جو دہرا معیار اور امتیازی سلوک ظاہر کرتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ چالان کی آڑ میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی دھمکیاں دینا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ غیر منصفانہ اور امتیازی جرمانوں کو غیر قانونی قرار دے اور حکومت کو ہدایت دے کہ شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات کرے۔

درخواست میں سندھ حکومت، چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی، ڈی آئی جی ٹریفک، نادرا، ایکسائز اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر ندیم اعوان نے بھی کراچی میں ای چالان سسٹم کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔